321

کیا لباس شرافت کی نشانی ہے؟

کیا لباس شرافت کی نشانی ہے؟
ہم بحیثیت مسلمان اور جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں ۔ وہاں باپردہ رہنا نا صرف ہماری مذہبی بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔
ہمارے معاشرے میں خواتین کے لباس کو نا صرف موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ بلکہ خواتین کو بہت سے اشراف کی ایکسرے کرتی نگاہوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سی زمانے کے لحاظ سے خود کو بنا سنوار کر رکھنے والی خواتین کو بہت شریف پایا ۔ پر انہیں مردوں کی تنقید کا نشانہ بھی پایا ۔ کہ اتنی بے حیا ہے ۔ ایک دفعہ کسی جگہ میں نے مکمل پردے میں وہ بھی سیاہ برقعے میں ایک لڑکی کو انتظار کرتا دیکھا۔ میں سمجھی کہ شاید گھر میں سے کسی کا انتظار کر رہی۔ اچانک اسے کال آتی ہے موبائل پہ اور چل پڑتی ہے۔ اسے ایک مہنگی کار میں لڑکے کے ساتھ بیٹھتا دیکھ کر مشاہدے میں یہ بات آئئ ۔کہ اس کا اتنا گہرا پردہ پردے کے لیے نہیں بلکہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے تھا۔ کہ اسے کوئی پہچان نہ پائے ۔ پھر ایک اور جگہ بہت ہی باپردہ خاتون سے ملاقات ہوئی ۔۔ جو اس ادارے میں ریشیپنسٹ تھیں ۔ بہت ہی نیک اور بغیر برقعے والی کو وہ ٹکنےہی نہیں دیتی تھیں ۔ ہر بندہ بندی ہی اسکے باپردہ ہونے کی وجہ سے اس کا حمایتی نظر آیا۔ اچانک اسے اسی کے مالک پر حد سے زیادہ نگاہ رکھتا پایا ۔ مالک کو کسی اور لڑکی سے بات کرتا دیکھتی تو اشارے سے منع کرتی۔ مختصر اللہ معاف فرمائے اسکا پردہ پردے کے لیے نہیں کرتوت چھپانے کے لیے تھا۔ معاشرے میں صرف مرد ہی غلط نہیں ۔ بلکہ خواتین بھی کم نہیں ۔ اور میں خود کو زہین کہنے والے مردوں کی ذہانت پہ حیران ہوں ۔ جو جینز پہنی باکردار کو تو بے حیا کا لیبل لگا دیتے ۔ پر معاشرے میں چھپی کالی بھیڑوں کو نہیں پہچان پاتے۔ مختصر ہمیں ہمارے مذہب اور معاشرے کے لحاظ سے پردہ کرنا چاہیے ۔ پر ہمیں منافقت کرتے شرافت اور مذہب کا لبادہ اوڑھے مرد و خواتین کی بھی پہچان ہونی چاہیے ۔

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں