336

کورونا کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے گھر میں رہنے کے مثبت پہلو۔

کرونا کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے گھر میں رہنے کے مثبت پہلو۔۔۔
سب سے پہلا اس وبا کو پھیلنے سے روکنا جس پہ کوئی دو رائے نہیں ہے۔ پھر ہمارے وہ بہن بھائی اپنے روزگار بند ہونے کی وجہ سے زیادہ فکر مند ہیں ۔ کہ خدانخواستہ کہ لوگ بھوکے مر جا ئیں گیں ۔۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو ۔ ایسی نوبت آنے سے پہلے ہی یہ وبا ختم ہو جائے ۔ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ بجائے کے وبا کے ختم ہونے اور اللہ کی طرف رجوع کریں ۔ ہمیں دنیاوی فکر کھائے جا رہی۔ جان ہے تو جہاں ہے۔ اور پھر ایسی زندگی بھی بے رنگ ہو جاتی جو اپنےپیاروں کو کسی تکلیف میں دیکھے۔ اللہ سب کی اور سب کے پیاروں کی حفاظت فرمائے ۔۔میں ایک ماہ سے گھر والوں کو اور رشتہ داروں اور بھی کئ لوگوں کو حفاظتی تدابیر کا بتا رہی۔
بدلے میں بہت تنقید اور مذاق کا سامنا کرنا پڑا۔۔ چارو نہ چار اب وہ سب عمل بھی کر رہے ہیں۔
دنیا غم وفکر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اور ہر مذہب کے لوگ اللہ ہی کی طرف کسی نہ کسی صورت آس لگائے ہوئے ہیں ۔۔ کبھی جو قید میں پرندے انسانوں کو حسرت سے دیکھتے تھے۔ آج انسان اپنےگھر کی چھتوں پہ پرندوں کو دیکھ اللہ پہ ایمان اور پختہ کر رہے ۔ طہارت کا ہر لحاظ سے اہتمام کر رہے۔ چونکہ لوگوں کو چودہ سو پہلے بتائی گئ بات پہ اتنا پختہ یقین نہیں تھا جتنا کہ ہونا چاہیے تھا۔ اب یقین ہو گیا کہ پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ دنیا امن کا گہوارہ بن چکی ہے ۔ سب غلط کام رک چکے ہیں ۔۔ لیکن خدا نے اپنےگھر کا بھی راستہ بند کر دیا۔ 2005 کے زلزلے کے بعد بھی لوگ ڈر گئے تھے۔ لیکن عارضی ۔۔ اللہ اس وبا کو ختم کرے لیکن جیسے اب ہمارا ایمان پختہ ہوا اللہ اس کو ہمیشہ ایسے ہی پختہ رکھے۔ بچوں کی چھٹیوں کی وجہ سے والدین زیادہ پریشان تھے نہ کہ زیادہ صحت کو لیکر۔۔
بچوں کو بھی اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل گیا ۔ بچے انسان کی بجائے مشین بنے ہوئے تھے۔ بھاری بھرکم بستے جنھیں اٹھانے کے لیے گھر سے بھی ایک بندہ جاتا ۔۔ ان کے چھوٹے چھوٹے ذہنوں میں اتنے کورس کیسے سماتے ہوں گیں ۔ سکول سے مدرسے اور پھر ٹیوشنز ۔ کوئی کھیل کود وغیرہ نہیں ۔ جو بچے قدرتی طور پہ کمزور ہوتے ۔ انھیں فرسٹ آنے کی دوڑ میں اور ان پہ ہر وقت ذہنی دباؤ ڈالنے والے والدین کو شاید اب کے اپنے بچوں کی بے بسی کا احساس بھی ہو گیا ہو۔۔
وباہیں دنیا میں آتی رہیں ۔ اوراس وقت بھی ان کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے گھر میں لوگ رکتے تھے۔ نماز گھروں میں ادا کرتے تھے۔ اس دوران پہلے تو لوگوں کی جانب سے بہت مذاق دیکھنے میں آیا ۔
بنی اسرائیل کاطرز عمل مت دھرائیں
جب ان کو ڈرایا جاتا اور عذاب سنایا جاتا تھا تو وہ مذاق اڑاتے تھے پھر ان کا عبرت ناک انجام ھوا۔
خدارا
یہ ہنسی مذاق کے دن نہیں زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی امان میں رکھے۔ اور جو مبتلائے مرضِ کرونا ہیں اللہ ان کو شفاِ کامل عطا کرے۔اور جلد از جلد اس موذی بلا کو اس دنیا سے ختم کرے۔ اللہ تعالیٰ تمام نسل انسانیت کا حامی و ناصر ہو
آمین یا رب العالمین۔


بے شک..اور جیسے ہم دنیا والوں کے اعمال ہیں اگر اسکے برابر سزا ملتی تو ہم گھر میں بند ہونے کی بجائے زمینوں میں نست و نابود ہوجاتے۔
سوال یہ ہے کہ ہم لوگ گھروں میں بند کیوں رہیں اس سے کیا ہو گا۔ کیا ہمیں گھروں میں قید رکھنے اور سارا ملک بند کرنے سے کرونا یہاں سے چلا جائے گا؟
جواب: کرونا وائرس انسانی جسم یا کسی بھی جاندار کے جسم سے باہر ماحول میں 48 سے 72 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مطلب اگر کرونا کو محض 72 گھنٹے تک کوئی جاندار جسم گوشت کے اندر گھسنے کیلئے نہ ملے تو یہ 72 گھنٹوں بعد اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ جب کوئی کھلی ہوا میں کھانستا ہے یا چھینکتا ہے تو اس کے منہ اور ناک سے گرنے والا وائرس اگلے تین دن تک زمین یا کسی بھی تہہ پہ موجود رہتا ہے اور اس کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو انسانی جسم مل جائے اور یہ سانس کے ساتھ یا آنکھوں کان ناک سے جسم کے اندر پھیپھڑوں میں پہنچ جائے تو وہاں تیزی سے اس کی افزائش ہونا شروع ہو جاتی ہے یہ تیزی سے پھیپھڑوں کے خلیوں کو خراب کرنا شروع کر دیتا ہے اور ایک خلیے سے دوسرے خلیے میں منتقل ہوتا ہوا پورے جسم میں پھیل جاتا ہے پھیپھڑے ناکارہ کردیتا ہے اور اگر جسم میں قوت مدافعت کمزور ہو جو اس کا حملہ برداشت نہ کر سکے تو چند دنوں میں موت واقع ہو سکتی ہے۔
دوسری صورت میں اگر دو ہفتوں تک سارے لوگ اپنے اپنے گھروں تک محدود رہیں تو اس وائرس کو ایک سے دوسرے جسم میں گھسنے کیلئے کوئی ہوسٹ (انسانی جسم) نہیں ملے گا اور وائرس اپنے آپ ختم ہوتا جائے گا۔
لیکن اس کے برعکس اگر سارے لوگ باہر گھومتے ہیں تو وائرس کو ایک سے ایک نیا انسانی جسم (ہوسٹ) ملتا رہے گا اور اس کی زندگی بڑھتی چلی جائے گی اور یہ آگے سے آگے پھیلتا چلا جائے گا۔
کرونا سے بچنے کا یہ فارمولہ چین نے دریافت کیا ہے اور اس وقت پوری دنیا میں کرونا سے بچنے کا یہ واحد طریقہ اور حل ہے جس کو سمجھ کر اور اس پر عمل کر کے چائنہ نے کرونا کو شکست دی ہے۔ دنیا میں سوائے لاک ڈاؤن کے کرونا سے بچنے کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ وبا نہ پھیلے تو گھر پر رہیں اپنے لئے اپنے پیاروں کیلئے۔ اس پر عمل کریں تو کرونا کو ہم مل کر ہراسکتے ہیں ورنہ خود ہار جائیں گے۔ اٹلی کی طرح اس کو سریس نہیں لیں گے تو خدا نخواستہ ان کی طرح ایک دوسرے کے آخری دیدار اور کفن دفن کیلئے بھی ترسیں گے۔
کچھ اس حوالے سے شعر و نظم بھی تحریر میں شامل کر رہی ہوں۔
اداس زندگی
بہت مصروف رہتے تھے
ہواؤں پر حکومت تھی
تکبر تھا کہ طاقت تھی
بلا کی بادشاہی تھی
کوئی بم لے کے بیٹھا تھا
کسی کے ہاتھ حکمت تھی
کوئی تسخیر کرتا تھا
کوئی تدبیر کرتا تھا
کوئی ماضی دکھاتا تھا
کسی کے ہاتھ فیوچر تھا
سب ہی مصروف تھے ایسے
کہ ایک ہستی بھلا بیٹھے
بہت پرواز کر بیٹھے
خدا ناراض کر بیٹھے
اب اس نے منہ جو پھیرا ہے
فقط وحشت کا ڈیرہ ہے
کہ دنیا کی ہر ایک بستی
بھیانک موت چہرہ ہے
خدا منہ پھیر بیٹھا ہے
اب اس کا گھر بھی خالی ہے
قہر دنیا پہ طاری ہے
ابھی بھی وقت ہے لوگو
خدا سے گڑگڑا کر تم
اسے راضی کرو بھائی
وہ جلدی مان جاتا ہے
وہ اب بھی تم کو چاہتا ہے
کہیں پھر دیر ہو جاۓ
زمین ساری پلٹ جاۓ
ابھی بھی وقت ہے لوگو
وہ جلدی مان جاتا ہے
وہ جلدی مان جاتا ہے

ملاقاتیں عروج پر تھیں تو جواب اذان تک نہ دیا اقبالؔ

صنم جو روٹھا ہے آج مؤذن بنے بیٹھے ہیں ۔

نہ کلمہ یاد آتا ہے نہ دل لگتا ہے نمازوں میں اقبالؔ
کافر بنا دیا ہے لوگوں کو دو دن کی محبت نے ۔۔

کتنی عجیب ہے گناہوں کی جستجو اقبالؔ ۔۔
نماز بھی جلدی میں پڑھتے ہیں پھر سے گناہ کرنے کے لئے ۔۔

مولا تیری دنیا کا آج ایسا بھی منظر دیکھا

پرندوں کو آزاد اور انسانوں کو پنجرے کے اندر دیکھا

پرندے لوٹ کر آئیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو؟
نئے غُنچے چٹخ جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو؟

طہارت اور عبادت کا نتیجہ دیکھ لو گے تُم
یہ جرثومے بھی مر جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو؟

طواف خانۂ کعبہ بھی پھر ہو جائے گا جاری
یہ رخنے پھر نہیں آئیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو؟

اِنہی گلیوں میں ہنستے کھیلتے دیکھو گے بچوں کو
یہ سناٹے چلے جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو؟

گلے میں پھر نظر آئیں گے بستے، کاپیاں، قلمیں
یہ مَکتب رونقیں پائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو؟

شفاخانوں سے نکلیں گے شفا پا کر مریضِ غم
گُلوں سے صحن بھر جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو؟
ان شاء اللہ

عجیب قحطِ مسیحائی ہے کہ یہاں
اپنے بھی اپنوں کو چھُو لیں گے تو مر جائیں گے
واہ رے تیری قدرت، واہ رے تیرے عجیب کھیل
ہم ناسمجھ بندے ہیں تیرے اور ہم سے نہ کھیل

اے اللہ ہمارے کبیرہ صغیرہ گناہوں کو معاف فرما اور ہم سب کی مدد کر. اور ہمیں اور ہمارے پیاروں کو اس وبا سے محفوظ فرما۔ اور جو مبتلا ہیں انھیں شفا دے۔ ہمارے حکمرانوں ، فوج ، ڈاکٹروں ، پیرامیڈیکل سٹاف اور پولیس سب کی مدد اور حفاظت فرما۔ آمین

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں