461

مانگلی ہزارہ کا قدیم ترین شہر . تحریر. محمدامجد چوہدری

مانگلی بدھ دور کا ایک قدیم شہر تھا۔ بعض کتابوں میں اس کا نام مانکلی لکھا گیا ہے۔ سنسکرت میں منگل کے معنی پرفضا اور خوش نظر مقام کے ہیں مانگلی کے محل وقوع کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو واقعی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ بڑی خوبصورت ہوئ ہو گی ۔ یہ قصبہ شاہراہ کشمیر پر اسی مقام پر تعمیر کیا گیا تھا ۔ جہاں آج کل میاں کنگال صاحب کا مزار ہے شاہراہ کشمیر پر مانگلی ہی سب سے بڑا قصبہ اور تجارتی مرکز تھا. مشہور روایت کے مطابق اس شہر کو آباد کرنے والا راجہ رسالو کا بیٹا منگل تھا ۔ جو کہ رانی کوکلاں کے بطن سے تھا ۔ راجہ رسالو ہزارہ کا قدیم راجہ تھا اور اس کا زمانہ دوسری صدی عیسوی کا ہے پس معلوم ہوا کہ یہ قصبہ اسی دور کا ہے ۔
مشہور سیاح ہون سانگ ساتویں صدی میں ہندوستان وارد ہوا وہ لکھتا ہے کہ مانگلی شہر اس علاقے کا دارالحکومت تھا ۔

1399 میں جب امیر تیمور نے ترکوں کی ایک ہزار منگ کو اس ملک کی حفاظت کے لیے متعین کیا تو اس ہزار منگ کے افسروں نے مانگلی کے بجائے پکھلی خاص میں سکونت پذیر ہونا ذیادہ مفید خیال کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دفاعی نقطہ نظر سے مانگلی کی نسبت وہ علاقہ ذیادہ بہتر تھا ۔ شہاب الدین بابر نے برسراقتدار آنے کے بعد مانگلی کی بجائے گلی باغ کا قلعہ اور چھاونی تعمیر کر کے اسی کو اپنا داراحکومت بنانا موزوں سمجھا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ترکوں کے عہد میں کشمیر کی طرف سے جتنے بھی حملے ہوئے ان کا رخ سیدھا مانگلی کی طرف تھا ۔ میرزا حیدر ترک اور غازی چک کے حملوں سے مانگلی کو کافی نقصان اٹھانا پڑا لیکن گلی باغ ان حملوں سے محفوظ رہا اسی طرح اکبری فوج نے ولایت پکھلی پر حسن بیگ بدخشی اور شیخ عمری کی سرکردگی میں دوبار حملہ کیا اور شدید لڑایوں کے بعد مانگلی پر قبضہ کر لیا ۔ لیکن گلی باغ پر اکبری فوج قبضہ نہ کر سکی ۔ مانگلی کے شہر کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تھے اس کے گرد ایک مضبوط فصیل تعمیر کی گئ ۔ جس کے سات دروازے تھے موزوں مقامات پر شہر کے دفاع کے لیے تین برج تعمیر کیے گئے۔

سلطنت مغلیہ سے الحاق کے بعد بیرونی حملوں کا خطرہ ٹل چکا تھالیکن سلطان حسین خان اور سلطان شادمان خان والیان پکھلی نے مانگلی کے دفاع اور اس کی ترقی کے لیے عمدہ انتظامات کر رکھے تھے۔ مانگلی کے شہر میں ایک شاہی ڈاک چوکی بھی قائم کی گئ تھی ۔
ترکوں کے آخری عہد تک مانگلی دس ہزار نفوس کی آبادی کا ایک گنجان آباد شہر بن چکا تھا یہ وہ زمانہ تھا جبکہ راولپنڈی ایک چھوٹا سا موضع تھا ۔یہ فصیل بند شہر تھا ۔ اس کاطول چھ فرلانگ اور عرض تین فرلانگ تھا ۔تین مضبوط برج تھے جو خطرے کے وقت مورچہ کا کام دیتے تھے ۔اس علاقہ میں یہ واحد شہر تھا۔ جہاں ہر شعبہ اور ہر فن کے افراد موجود تھے۔ یہ شہر علماء حق اور صوفیاء بے ریا کا گہوارہ تھا۔ جلاہ پورہ سے نیچے شہر کا بازار تھا ۔


مانگلی میں ایک چھوٹا سا ٹیلہ ہے جسے سری منارہ کہتے ہیں اس سری منارہ کے شمال میں شرقاً غرباً مانگلی شہر آباد تھا اس کے خوش منظر ماحول اور معتدل آب وہوا میں شاہ و گدا سبھی کی کشمکش کا سامان موجود تھا ۔
کشمیر کی طرح مانگلی بھی علم و معرفت کے متلاشیوں کا مرکز بن چکی تھی ۔ کشمیر جاتے پوئے شہنشاہ مانگلی کے پرفضا مقام میں شاہی کیمپ لگایا کرتے تھے۔ شہنشاہ کے ہمراہ پانچ سو ہاتھی بقدر ضرورت اونٹوں کی اچھی خاصی تعداد اسپ سوار فوج پیادہ سپاہ بمعہ ہلکا توپ خانہ، احدی ،چوبدار، تیغ زن توپچی، بندوقچی ،نقارچی اور علمبردار ہوا کرتے تھے۔
ٹانگے، یکے اور بگھیاں بھی شاہی سواری کے لیےاستعمال کی جاتی تھیں۔ شاہی کیمپ ہمیشہ کھلی فضا میں کھلی فضا میں اس ترکیب سے لگایا جاتا کہ توران کی یاد تازہ ہو جاتی ۔ دیون عام دیوان خاص اور شاہی محل سرا کے نمونے پر خیمے نصب کر دیے جاتے۔ افسروں کی اپنی اپنی قیام گاہ ہوا کرتی تھی شہنشاہ روزانہ کچہری لگاتے اور مقدمات کے فیصلے کرتے اور ضرورت کے مطابق فرامین جاری کرتے تھے ۔ شکار سیروتفریح کا لازمی جزو ہوا کرتا تھا.
مانگلی شاہراہ کشمیر پر قدیم قصبہ ہونے کی وجہ سے ایک تجارتی منڈی بن گیا تھا یہ قصبہ ولایت پکھلی کے وسط میں واقع تھا اسے ہر طرف سے مختلف شاہرہوں کے ذریعے کوڑمنگ ،گلی باغ، شیروان ،چھانجل ،دہمتوڑ اور مانکرائے سے ملا دیا گیا تھا. یہ شاہراہیں اتنی چوڑی تھیں کہ ان پر تجارتی قافلے اور افواج آسانی سے نقل و حرکت کر سکتی تھیں ۔
مانگلی کا شہر ایک ایسے پرفضا موام پر واقع تھا جو نہ کشمیر کی طرح بہت سرد تھا اور نہ ہی پنجاب کی طرح گرم تھا ۔اس کی معتدل آب وہوا میں سارا سال کام کرنا ممکن تھا ۔یہی وجہ تھی کہ اس شہر میں چاروں اطراف کے لوگ آ کر آباد ہو گئے تھے ۔خوبصورت دو منزلہ لکڑی کے مکانات اور دروازوں ، کھڑکیوں پر عمدہ نقش ونگار فن تعمیر کا عمدہ نمونہ پیش کرتے تھے ۔ دہلی سے شاہی خاندان سے نسبی تعلق رکھنے والے ایک مشہور بزرگ شہزادہ گل محمد المعروف میاں کنگال صاحب نے اپنی عمر کا آخری حصہ مانگلی ہی میں درس و تدریس اور بیعت و ارشاد کے مشاغل میؑ گزارا ۔آپ پر مرزا مظہر علی جانِ جاناں کی صحبت کا اثر ہوا اور طریقِ امیری ترک کر کے طریق فقیری اختیار کی اور شیخ احمد سرہندی سے سلوک و بیعت کی منازل طے کیں ۔
آپ 1198 ہجری بمطابق 1784 بتاریخ 19 دسمبر یہیں فوت ہوئے ۔ آپ نے درانیوں کا آخری عہد اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا آپ کا مقبرہ اب بھی مانسہرہ روڈ کے کنارے مانگلی کے اسی مقام پر ہے ۔ جہاں آپ کا تکیہ اور مسجد تھی۔
1821ء کا سال مانگلی کے حق میں تباہی کا سال نکلا ۔ اس سال ہری سنگھ نلوہ جب کشمیر سے سفر کرتے ہوئے مانگلی پہنچا تو کئ قبائلی سرداروں نے مل کر اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن ان کی غیر منظم بھیڑ سکھوں کی فوج کا مقابلہ نہ کر سکی سکھ فوج نے کئ مقامات سے شہر پناہ کو توڑ پھوڑ دیا اور شہر کے اندر گھس کر آگ لگادی اس زمانے میں گھروں اور بازاروں میں عمارتی لکڑی کا استعمال بہت ذیادہ ہوا کرتا تھا ۔ اس لیے آگ پر قابو پانا بہت دشوار بن جاتا تھا ۔ چند گھنٹوں کے اندر اندر مانگلی کا خوبصورت شہر جل کر خاکستر ہوگیا اس کے شہری شہر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتشر ہو گئے۔ سات سو افراد کو شہید کر دیا ۔ مانگلی کا کنواں لاشوں سے اٹا پڑا تھا۔ یہ کنواں اسی وجہ سے سری منارہ کے نام مشہور ہے۔ یہ مانگلی کی آخری تباہی تھی ۔سکھوں کے دور میں مانگلی کی آبادی اجڑی اور انگریزوں کے زمانہ میں بے نام و نشاں ہو گئ ۔

*مانگلی کی قدیم علمی شخصیات**

مانگلی کی قدیم علمی شخصیات میں میاں گل محمد المعروف میاں کنگال صاحب کے علاوہ اخوند صاحب مانگل تھے۔ جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے شاگرد تھےآپ پانی پت کی لڑائ میں موجود تھے ۔امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے مرہٹوں کے سرکوبی کے لیے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی جن ذرائع سے دعوت دی تھی ان میں ایک بزرگ یہ بھی تھے۔ ان کا اصل نام نہیں معلوم ہو سکا لیکن اخوند صاحب کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے دو بیٹے محمد حنیف اور محمد عبید تھے محمد عبید بعد میں سیداحمد شہید کی جماعت مجاہدین میں شامل ہو کر سکھوں کے خلاف سرگرم رہے جنگ بالاکوٹ کے بعد ان کا کوئ پتہ نہ چل سکا ۔ میاں محمد حنیف کی اولاد میں ایک حافظ سعداللہ تھے۔ جو دینی علوم کے حصول کے بعد موضع سمو علاقہ پنچ کٹھہ میں اپنے بھائ کی خانقاہ میں درس و تدریس میں مشغول رہے ۔ آخر 1902 میں ان کا انتقال ہوا ۔ ان کا عظیم کتب خانہ تھا۔ جو اب تلف ہو چکا ہے۔
ماہنامہ فکرونظر جون 1970 میں اس عظیم کتب خانہ کے متعلق ایک مضمون شائع ہوا تھا۔اس میں فقہ حنفی کی مسبوط جامع اور نادر کتاب• المحیط البرہانی فی القصہ النعمانی• کا تذکرہ کیا گیا تھا یہ کتاب ان کے کتب خانہ میں موجود تھی۔ مجموعی طور پر اس کتاب کی ضخامت 2942 صفحات ہیں ۔ اس کی ندرت اور کم یابی کا اندازہ اس طرح سے ہو سکتا ہے کہ ساری دنیا میں اس کے صرف دو یا تین مکمل نسخے پائے جاتے ہیں حافظ سعداللہ مجرد تھے۔ ان کےبھائ محمد گل کے بیٹے حافظ احمد دین 1909میں مدینہ منورہ گئے اور وہاں کے اہل علم سے استفادہ کیا واپس آنے کے بعد حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی تحریک سے منسلک ہوئے ریشمی خطوط کی ترسیل اور اندرون ملک مراسلت ایک عرصہ تک ان سے متعلق رہی ۔ اس تحریک کا راز افشاء ہو گیا تو وہ قبائلی علاقہ میں روپوش رہے بعد ازاں واپس آئے اور 1958 میں رحلت فرمائ۔ مانگلی کے دیگر قدیم افراد میں بابا احمد علی صاحب ، مولوی عبدالکریم، حاجی عبداللہ صاحب ، قاضی محمود ، حضرت فاضل کے حالات زندگی ملتے ہیں

تلاشِ ماضی ۔ ۔ ۔ ۔محمدامجد چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں