437

ہزارہ گوجراں:- ( تحریروتحقیق محمدامجد چوہدری )

ہزارہ گوجراں:-
( تحریروتحقیق
محمدامجد چوہدری )

مغلیہ عہد میں ہزارہ (جو آج 7 اضلاع پر مشتمل ہے) ہزارہ گوجراں کہلاتا تھا، جیساکہ اسے علامہ ابوالفضل آئین اکبری میں بیان کرتا ہے۔ برطانوی دور کے پہلے بندوبستی آفیسر میجر ویس کا کہنا ہے کہ زیریں ہزارہ میں دریائے سندھ (تربیلہ) سے ضلع کی جنوبی حد (ٹیکسلا) تک گوجر مالکان اراضی ہیں۔ وہ لکھتا ھے گوجر ہزارہ کے قدیم اور اکثریتی قبائل ہیں۔ ضلع میں ان کی تعداد تمام قبائل سے زیادہ ھے اور ریشو 15.84 فی صد سب سے ہائی ھے۔
رپورٹ بندوبست 1872 کے مطابق ہزارہ کی کل آبادی آں وقت 343,505 ریکارڈ ہوئی۔

کھتری: 12,320، فیصد 3.50
دیگر: 4,311 ، فیصد 1.50
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””
سید: 11,700، فیصد 3.34
جدون: 15,711،فیصد 4.57
سواتی: 21,334، فیصد 6.21
تنولی: 21,732، فیصد 6.32
دیگر: 16,748، فیصد 4.87
ڈھونڈ: 14,412، فیصد 4.19
کڑلال: 10,734، فیصد 3.12
اعوان: 50,564، فیصد 14.72
گوجر: 54,420، فیصد 15.84
دیگر: 109,519،فیصد 31.88
(دیگر میں کسب گر اور کم تعداد والے قبائل شامل ہیں)

گوجر ضلع کی سب بڑی اکثریتی آبادی ہیں۔ اپنی مذکورہ رپورٹ میں وہ لکھتا ھے کچھ دیہات میں ان گوتراؤں کے گوجر مختلف مقامات پر آباد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ضلع ہزارہ میں انکی جو گوترائیں ریکارڈ کی گئیں ہیں وہ حسب ذیل ہیں:-

چھوکر، کھٹانہ، کسانہ، کالس، گورسی، چیچی، دھیدڑ، پوسوال، سوہا، ٹھیکریہ، مونن، بھوملہ، آلماں، بانٹھ، بانیاں، باگڑی، بھنڈ، باھروال، بوکن، بھڈانہ، بسویہ، پھلڑہ، ٹھیکریہ، چیچی، چوہان، ڈھنیڈے، ڈوئی، ڈوگے۔ جبلی (جبری)، جاگل، سرادھنہ، سیر ، کھاری، میلو، موٹے، مونن، پسوال، ریانہ، بجاڑ اور رجوعہ وغیرہ۔

اب بندوبست کے بعد قبائل کی نقل و حرکت اور آبادکاری, ہجرت سے بہت فرق پڑا ہے خاص کر تقسیم کے وقت بہت سے گوجر ریاست جموں و کشمیر سے آ کے ھزارہ میں بس گئے ہیں۔

ہزارہ گوجراں میں گوجروں اور انکی گوتراؤں پر آباد دیہات کچھ کی تفصیل حسب ذیل ہے:-

آلماں، بانٹھ، بانیاں بٹگرام، بانیاں مانسہرہ، باگڑیاں، بجاڑیاں، بھنڈ، باھروال، بوکن، بھڈانہ، بسویہ، پھلڑہ، ٹھیکریہ، چیچیاں، چوہان، دھدڑ، ڈھنیڈے، ڈوئی (آبی)، ڈوئی (خشکی)، ڈوگہ، کالس، گوجرہ، گجرات حویلیاں، گوجری بائیاں، گوجر درہ، گوجری مساح، گوجری قلندراباد، گوجر موہڑہ، گوجر نلہ، جبلی (جبری)، جاگل، سوہا، سرادھنہ، سیر شرقی، سیر غربی، کہولیاں، کھاریاں، میلم، موٹیاں، مونن، پنڈگوجراں، پسوال، پسوال میاں، پسوال کوٹھیالہ، ریانہ، رجوعہ اور کچھ ایسے گاؤں بھی ہیں جو تا حال ھماری دانست میں نہیں.
واضح رہے کہ صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے بعد ہزارہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں گوجروں کی آباد کاری سب سے زیادہ ہے میجر ویس لکھتا ھے یوں تو گوجر ہزارہ میں ہر جگہ آباد ہیں مگر تحصیل ہری پور میں مالکان اراضی کے طور پر وہ سب سے زیادہ ہیں اور میدان ہری پور کا ایک tract گوجر پٹی کہلاتا ہے۔ ہزارہ میں انارکی کا زمانہ کم و بیش دوسو سال تک جاری رہا ھے اور ہزارہ گوجراں کا وہ علاقہ کہ جس کے گوجر بلا شرکت غیرے مالک تھے وہ آج چوتھائی حصہ کے طور گوجر پٹی کی صورت میں ان کی ملکیت رہ پایا ہے۔ مندرجہ بالا حقائق من گھڑت نہیں ہیں جو ان کتابوں سے اخذ کئے گئے ہیں۔

(ماخذات)


– تواریخِ ہزارہ از مہتاب سنگھ
– شاہان گوجر از عبدالمالک خان کھوڑوی
– تاریخ ہزارہ (ڈاکٹر شیر بہادر پنی)
– تاریخ ہزارہ (راجہ ارشاد خان)
گزٹئیر آف دی ہزارہ ڈسٹرکٹ 1883-84
– ہزارہ گزٹئیر 1907
– ہزارہ بندوبست رپورٹ 1874
– پنجاب کاسٹس، ڈینزل ابٹسن
-دی پنجاب انڈر دی مغل از محمد اکبر
– آئیں اکبری از علامہ ابوالفضل

(قسط اول )
تلاشِ ماضی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمدامجد چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں