401

مجھے ہے حکمِ اذاں ۔۔ تحریر ۔۔ ماہا سیف گجر

تحریر ماہا سیف گجر

آجکل گجر قوم سوشل میڈیا پر اپنے خوب عروج سے گزر رہی ہے ۔ ہر بندہ کسی نا کسی گروپ سے منسلک ہے ۔ اتنے گروپس بن چکے ہیں کہ نمبر شمار کرنا ممکن نہ ہے ۔ اس سارے عمل سے تو باہمی رابطے اور تعلق کو مضبوط ہونا چاہیے تھا لیکن باریک بینی سے مشاہدہ کرنے پر پتہ چلا ان گروپس کی وجہ سے بداعتمادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ جو کہ کسی صورت گجر قوم کے مفاد میں نہ ہے زیادہ تر گروپس کے پیچ پر بڑی شان و شوکت سے لوگ آ کر اپنا تعارف کرواتے ہیں اپنے علاقے کا نام لکھتے ہیں حتیٰ کے موبائل نمبر تک لکھ دیا جاتا ہے ۔ اس نمود و نمائش کو اکثر  لوگ سیاسی طور پر کیش تو کر لیتے ہیں لیکن جس کا کوئی تعارف نہیں ہوتا وہ کیا تعارف کروائیں ۔۔۔؟؟؟؟ اور اگر کوئی غلطی سے ان لوگوں سے رابطہ کر بھی لے اول تو رابطہ نمبر پر بات کرنا ہی ممکن نہیں ہوتا اور اگر کسی کو کوئی معلوماتی  کام بھی ہو تو وہ ہونا ممکن نا ہے بلکہ اکثر تو سرعام ایسا بھی سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ گجر قوم کے کسی فرد نے  دوسرے گجر بھائی سے ان کے سوشل میڈیا پر دیے گئے تعارفی نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو زیادہ تر اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مشاہدے کے مطابق یہ بات بھی انتہائی مایوس کن ہے کہ جس کسی بھائی کا رابطہ ہو بھی جائے تو جواب اس کی توقع کے برخلاف ملتا ہے ۔ باہمی تعاون نا ہونے اور ظاہری دکھلاوے کی وجہ سے گجر قوم میں پھیلتی مایوس کن صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مختلف عہدوں پر براجمان عہدیداروں سے بھی اگر کوئی رابطہ کر لے تو اکثر جیسے سرکاری دفاتر میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے دوسرے متعلقہ افسر کے پاس بھیج دیا جاتا ہے ویسے ہی یہ روایت اپناتے ہوئے اکثر عہدیدار داد رسی کے بجائے دوسرے عہدیدار سے رابطہ کرنے کا کہتے ملتے ہیں ۔ سماجی رابطے پر اگر کوئی کسی شہر کا نام لکھتے پوچھ لے کہ وہاں کوئی گجر بھائی ہے تو نیچے ہی کمٹس میں جو بات زیادہ تر دیکھنے کو ملی وہ یہی تھی کہ رہنے دو بھائی کوئی گجر ہوا بھی تو آپ کا کام نہیں کرے گا ۔ میرا پوری گجر قوم سے یہ سوال ہے کہ ذاتی مفاد اٹھا کر قوم کو مایوسی میں دھکیلنے والے کب تک اپنا یہ کھیل جاری رکھیں گے ۔ ۔ ؟ خلوص اور وفا گجر قوم کے خون میں ہے مفاد پرست عناصر جتنا مرضی گجر قوم  کے نام کو استعمال کرتے رہیں لاکھ دھوکہ کھانے کہ بعد بھی خلوص اور وفا رہتی دنیا تک ان میں قائم رہے گی ۔ گجر قوم کہ بزرگ رہنما  کے پاس بیٹھے ان کی اس بات پر مجھے شدید حیرت کا سامنا ہوا جب انھوں نے بتایا کہ گجر قوم کے ضرورت مند طالب علموں اور دیگر امدادی کاموں میں مدد کرنے والے زیادہ تر گجر قوم سے نہیں بلکہ دوسری اقوام سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بڑے بڑے کاروبار ، کمپنیوں اور سرکاری عہدوں پر براجمان گجر صرف اپنی ظاہری شان و شوکت لیے ہوئے ہیں ۔ گجر قوم کے لیے ان کی خدمات نا ہونا باعثِ تشویش  ہے ۔ گجر قوم کے لیے بابا جی کی خدمات قابلِ تحسین ہیں لیکن حقیقت کی عکاسی شاعر کے اس شعر میں نمایاں ہے

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ؎

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

تشہیر کے اس دور میں کراچی سے خیبر تک اور کشمیر میں سب کو معلوم ہے کہ سب جگہ گجر ہیں لیکن اپنے قریبی علاقے میں رہائش پزیر گجروں کی حالتِ زار کا کسی کو علم نہیں ۔ ایسی تصويری نمائش ، بارعب تعارف کا کریڈٹ لینے کا کیا فائدہ جس سے بطور قوم کوئی بہتری نہ آئے ۔ قوم میں رابطہ  بہترین عمل ہے مگر اس کے ساتھ اپنے گجر بھائیوں کی مشکلات سے آگاہ ہونا بھی نہایت اہم ہے ۔ میری اس بات سے گجر قوم کے  بڑے بڑے تشہیری رہنماء  ، نام نہاد لیڈروں اور موسمی سیاست دانوں کو ضرور اعتراض ہو گا اور مجھے خبر ہے کہ شدید تنقید  کا نشانہ بنایا جائے گا لیکن اپنی قوم میں احساسِ محرومی اور بداعتمادی پھیلے یہ میرے لیے کسی صورت قابلِ قبول نا ہے ۔

گرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکمِ اذاں  ، لا الہ الا اللہ

نوجوان نسل خدمت کے جذبے سے سرشار ضرور ہے اور ان کا لیڈر بننے کا خواب بھی جائز ہے  ۔ نوجوان نسل کو آگے بڑھنا بھی چاہیے  لیکن ان کا یہ خیال کہ تمام تنظیمیں ٹھیک کام نہیں کر رہیں اب ان کی جگہ نوجوانوں کو قیادت ملنی چاہیے تو ان کے لیے عرض ہے کہ یہ حکومتی کرسی تھوڑی ہے جو کوئی اترے گا نہیں   ۔ جتنی ہمارے بزرگ رہنماؤں نے قربانیاں دیں ہیں اسی کی بدولت آج ہم باوقار اور باہمت قوم کے طور پر سب سے نمایاں ہیں  ۔ جتنا ہمارے رہنماؤں نے کیا ہے اچھا یا برا ، کم یا زیادہ سب اپنے حالات کے مطابق بہترین تھا ۔ اب نوجوان نسل کو اپنے حصے کی شمع روشن  کرنا ہو گی ۔

شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

پھر عہدے اور مقام کیا آپکا کام ہی آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا دے گا ۔ قائد اعظم کے فرمان کے مطابق کام کام اور بس کام کرنا ہو گا  ۔ اب نوجوان نسل کو چاہیے عملی طور پر اپنی خدمات انجام دیں یہی وقت کا تقاضہ اور ضرورت ہے ۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔

آمین ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں