327

عذابِ الہٰی ۔۔تحریر ۔۔ماہا سیف گجر

عذابِ الہٰی

تحریر ماہا سیف گجر

بے وقت اور ضرورت سے زائد بارش اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور ہمارے اعمال کا عذاب ہے ۔ پاکستانی قوم اس قدر غافل ہے کہ اپنے اپنے اعمال پر توبہ تائب ہونے کے بجائے   ابھی بھی پی۔ ٹی ۔آئی ، مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی اور مشرف حکومت کی مثالیں دے کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں ۔ ہمیں یہ سب تو خبر ہے کہ کس پارٹی کی قیادت نے بروقت پانی نکال دیا تھا ، کس نے ڈیم نہیں بنوایا تھا ، کس پارٹی کو سمجھ ہی نہیں ہے یا پھر کس نے پل نہیں بنوایا ۔ ہمیں  حکامِ  اعلیٰ کی ہر دور کی غلطیاں تو  ازبر ہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی اپنی غلطیوں کو مانتے ہوئے   اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ زیر ہو کر توبہ کی طرف نہیں جانا چاہتا  ۔ کیونکہ ہم یہ ماننے کو تیار  ہی نہیں ہیں کہ یہ سب ہمارے اپنے اعمال کا صلہ ہے ۔ کراچی ہر سال ڈوبتا ہے لیکن کچے گھروں کے مکینوں کے دکھ کو دوسرے روز ہی بھلا دیا جاتا ہے ۔ وہ لوگ بھی حکمرانوں کی بے حسی پر صبر کر لیتے ۔ بے بس اور مجبور عوام کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جاتا ۔ لیکن اس بار جو خلافِ معمول شور برپا ہے وہ کراچی کے پوش علاقوں کے رہائشیوں کے باعث ہے ۔۔ جن کی بڑی بڑی  گاڑیاں اور عالیشان  گھر  غریب عوام کے گٹر اور سیورج کے پانی میں ڈوب گئے ہیں ۔ ڈی ۔ایچ ۔اے سمیت کراچی کے تقریباً سبھی پوش علاقے بھی ڈوب چکے ہیں ۔ یہاں اب حکومت بھی تشویش میں ہے کہ آخر کراچی کیسے ڈوب گیا مرسیڈیز والے عالی شان بنگلے جن کی بیسمنٹ آج بھی گندے پانی سے بھری ہوئی ہے ۔علاقے کا گندا پانی قیمتی گاڑیوں ، فرنیچر ، الیکٹرانکس اور ڈیکوریشن کو برباد کر چکا ہے ۔ ایک ہی جھٹکے میں سال بھر کی زکات کے برابر مال برباد ہو چکا ہے ۔ اوپر والے کا انصاف ہے ۔ اب غریب لوگ امیروں کو اپنے ساتھ ڈوبے دیکھ کر سوچ رہے ہیں کہ شاید بے حس حکمران اب غریب عوام کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اب ان کی بہتری کے لیے کوئی قدم اٹھائیں ۔ امیر لوگ تو اپنے گھر کی دوسری تیسری منزل پر وقت گزار لیں گے لیکن کھلی چھت تلے بارش کے کھڑے پانی میں  آدھی ڈوبی ٹانگوں کے ساتھ رات گزارنا کیسا ہے اس کا احساس کرنے کے لیے اے سی لگے پرتائش کمروں سے باہر نکل کر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے حکمران ہی نہیں بلکے لاکھوں روپیہ سرکاری خزانے سے تنخواہ وصول کرنے والے افسران میں بھی انسانیت ناپید ہو چکی ہے ۔رزقِ حلال کا حصول شاید انہیں کچھ خاص پسند نہیں ہے اسی لیے اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے انجام دینا گناہ سمجھتے ہیں ۔ کسی غریب کا گھر اس گھر میں پڑا راشن کپڑے اشیائے ضروریات اور بیٹی کے لیے اکٹھا کیا گیا جہیز کا سامان جب اپنے فرائض سے غافل افسران اور بے حس حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتا ہے تو بے بسی کے اس مقام پر نکلنے والی ایک آہ پر نازل ہونے والے عذابِ الہٰی  کو کون روک سکتا ہے چند روز قبل پورا پاکستان ہی بارشوں کی لپیٹ میں تھا ۔ سوات ، کشمیر ، سندھ ، گلگت ، چترال ، سکردو جگہ جگہ لینڈ سلائڈ کی وجہ سے لاکھوں سیاح اور کروڑوں افراد اپنے گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ۔ دریائے سوات میں شدید طغیانی کے باعث بہت سارا جانی و مالی نقصان ہوا ۔اللہ پاک تمام پاکستانیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور صاحبِ حیثیت لوگوں کو متاثرین کی مدد کرنے کی  توفیق دے ۔

آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں