343

وطن کی مٹی گواہ رہنا۔ تحریر ۔ ماہا سیف گجر

وطن کی مٹی گواہ رہنا

تحریر :٠٠ ماہا سیف گجر

اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی ، تعلیم اور صحت کے لئے خدمات انجام دینا ہی سب سے اہم ہے ۔ کسی بھی معاشرے میں اعلیٰ مقام پانے کے لیے وہاں کی سوسائٹی میں تعلیم اور صحت کے لئے اقدامات کرنے سے ہی ترقی ممکن ہے ۔  ویسے تو ہمارے ہاں زیادہ تر لوگ بیرون ممالک میں جا کر اپنے حالات کو بہتر کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ دنیا میں بھی خدمتِ خلق کو چُن کر اپنی دنیا و آخرت کو سنوار لیتے ہیں ۔ ایسی ہی مثال جہلم  میں واقع  علاقہ کھرالہ کی ہے ۔  کھرالہ کی عوام کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر علاقے میں واقع تقریباً پانچ سکولوں میں ایک جیسا یونیفارم ، سکول شوز ، کتابیں ، کاپیاں اور سکول بیگ میسر کر کے ایک معیار قائم کیا ۔ اس علاقے کے لوگوں کی اپنی مٹی سے محبت اپنی مثال آپ ہے ۔ یہاں نہ صرف تعلیم اور صحت کے لیے کام کیا گیا بلکہ نوجوانوں نے کلین گرین کو بنیاد رکھ کر علاقے میں صفائی کا بہترین سسٹم بنایا گیا ، سکول میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور واش رومز تیار کروائے گئے ۔ علاقے میں مستحق بچوں کے نا صرف تعلیمی اخراجات برداشت کیے بلکہ روزمرہ کے گھریلو اخراجات میں بھی معاونت کر کے علاقہ مکینوں نے قرب و جوار کی تمام آبادیوں کو یہ پیغام پہنچایا کہ اتفاق اور اتحاد سے ہم اپنے ساتھ رہنے والے کمزور لوگوں کو بھی ساتھ لے کر چل سکتے ہیں ۔ انسانیت اسی کا نام ہے ۔  معزور ، کمزور اور بےسہارا لوگوں کے لیے یہ گاؤں کسی جنت سے کم نہ ہے ۔ اپنی مدد آپ کے تحت قبرستان کی صفائی کے ساتھ تعمیر و مرمت کروائی گئی ۔ بچوں اور بچیوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو صحت مند بنایا گیا ۔ لڑکوں کے کھیلوں کے ویران میدانوں کو  دوبارہ سے بحال کر کے وہاں پروگرام ترتیب دیے گئے ۔ دینی تعلیم کے حصول کے لیے قائم مدرسوں کے لیے بھی کاوشیں  کی گئیں ۔ یہ سب کام یہاں کے نوجوانوں ، خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار بزرگوں اور خواتین نے بخوبی انجام دیے ۔ ان سب سماجی کاموں کے پیچھے اس علاقے سے تعلق رکھنے والے جناب مطلوب گجر ہیں  ۔ جنہوں نے بیرونِ ملک سے بھی اپنے علاقے کے لیے خدمات  کا سلسلہ جاری رکھا  ۔ خواتین کے لیے دستکاری کے سلسلے میں کیمپ لگائے گئے ۔ سب لوگوں کو اکٹھا کر کے اس میدان میں مختلف شعبوں میں کام کر کے اپنے اس جذبے کو عمل جامہ پہنایا ۔  کسی پلیٹ فارم کے نا ہونے کے باعث ان کے لیے اپنی خدمات کو جاری رکھنا ناممکن تھا اس وجہ سے رہبر فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا گیا  لیکن قانونی پیچیدگیوں کے باعث پاکستان  میں باقاعدہ دفاتر بنا کر عمل میں نا لایا جا سکا ۔ لیکن خدمتِ خلق کا جذبہ ہو تو پھر کام تو جاری رہتا ہے ۔ اسی لئے اپنے مشن کو جاری رکھتے ہوئے علاقائی طور پر علاقے کے ہونہار نوجوانوں اور مخلص لوگوں کے ساتھ مل کر تعلیم اور دیگر سوشل خدمات کا سلسلہ آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ گو کہ اس دور میں فنڈز کا میسر کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے مگر اس کے باوجود مطلوب گجر صاحب اپنے قریبی محسنوں اور دوستوں کی مدد  سے اس مِشن کو کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے دوسرے علاقے کے لوگوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ آئیں مِل کر اپنی قوم کی خدمت کریں اور اپنے پاکستانی بھائیوں کو کامیاب بنائیں ۔ مطلوب گجر سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور اپنے اس پلیٹ فارم سے وہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے لوگوں کے تعاون سے خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھنا  چاہتے ہیں ۔ اللہ کریم خدمتِ خلق کے اس جذبے کے ساتھ پاکستان کی عوام کو جینے کی توفیق دیں ۔۔۔۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں