504

برسوں پہلے جب فیس بک نئی نئی متعارف ہوئی تحریر محمد بشیر رانجھا

برسوں پہلے جب فیس بک نئی نئی متعارف ہوئی اور علم و ادب کے شیدائیوں نے یک دم اپنی اپنی تخلیقات اپ لوڈ کرنا شروع کیا تو مجھ جیسے طالبعلموں نے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس سے استفادہ کرنا شروع کردیا۔۔۔ بے شمار نامی گرامی شعرا اور ادیبوں کی تخلیقات اور علمی شہ پارے پڑھنے کو ملتے ۔۔۔ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے بحال ہوئے بہت سے نئے دوستوں سے شناسائی ہوئی اور تیز ترین رابطے کا ایک اور وسیلہ ہاتھ آیا۔۔۔ لیکن رفتہ رفتہ دو اور تین نمبر کے لوگ چھٹےاور آٹھویں درجہ کے شعری و نثری ٹوٹکے لے کر فیس بک پر جتھوں کی صورت میں حملہ آور ہو گئے ان مداریوں کے حواری اور کا سہ لیس واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ایک نمبر اور اعلی پائے کےادبا اور شعرا پر تنقید کے نام پر ان کی کردار کشی اور بزعم خودنامور، معروف،اور عمدہ شاعر و ادیب کہلانے والے کینہ پرور، جاہل، موقع پرست ،خود غرض، چور اور کم ظرف لوگوں کو اگلی صف میں شامل کرنے کے لیے جینوئین لوگوں کے پیچھےپڑ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عام اجتماعات میں اچھا کہنے لکھنے والےخال خال ہی نظر آتے ہیں۔
بات یہاں تک بھی رہتی تو شاید کچھ نہ کچھ حل نکل آتا۔ اس مرحلے پر دو اور قسم کے وارداتیوں نے اپنی اپنی کہانی ڈال دی۔ ادب کے نام پر دوستیاں بڑھانے والوں نے سیاست اور تفرقہ بازی کا پرچار ادب سے سات گنا آگے جا کر شروع کردیا۔ ہم ان سے کسی اچھی غزل یا خوبصورت افسانے کی آس لگائے بیٹھے ہوں تو وہ نہار منہ۔ عمران یا نواز کو گالیاں دیتا ہوا ملے گا یا کسی ایک مخصوص مسلک کا پرچار کرتا ہوا ملے گا۔۔۔ کیا ادب اسی کا نام ہے؟؟ ایک طرف یہ حال ہے تو دوسری طرف آپ مجلس تحسین باہمی کے تحت کسی بھی دوست کے شعر یا پوسٹ پر سو سال تک واہ واہ کرتے رہیں تو یاری پکی جہاں آپ نے سچی اور مثبت تنقید کی جھٹ سے آپ کو ان فرینڈ کر دے گا۔۔۔۔
کیا ہم ایسے رویوں کے ساتھ بھی شاعر ،ادیب یا دانشور کہلانے کے حق دار ہیں؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں