حضرت پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی 1,207

حضرت پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی

حضرت پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی۔۔۔معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا قاضی چن پیر الہاشمی کے گھر سکول ریکارڈ کے مطابق 9 جنوری 1953ء کو تحصیل حویلیاں کے گاؤں رجوعیہ میں پیدا ہوئے۔۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی اور تایا جان مولانا قاضی عبدالواحد صاحب (جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد رشید تھے) سے حاصل کی۔۔1963ء میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا قیام عمل میں آیا جسکا باقاعدہ افتتاح 9 اکتوبر 1963ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کیا تھا آپکے والد محترم کو تدریس کے لئے بلایا گیا تو وہ آپکو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے اسوقت آپ کی عمر 10 سال تھی۔۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے پہلے صدر علامہ شمس الحق افغانی اس یونیورسٹی میں بحیثیت شیخ التفسیر اور علامہ احمد سعید کاظمی بحیثیت شیخ الحدیث جبکہ جامعۃ الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید نعمانی اسوقت نائب شیخ الحدیث کے فرائض انجام دے رہے تھے۔۔جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں 9 سالہ قیام کے دوران آپ نے شہادت العالمیہ کا نصاب مکمل کیا جس میں تفسیر و اصول تفسیر، حدیث و فقہ، عربی ادب، انگریزی، معاشیات کے مضامین مستند علماء سے پڑھے۔۔آپکی قابلیت کو دیکھتے ہوئے حضرت علامہ شمس الحق افغانی نے آپکو سند القرآن الکریم اور علامہ احمد سعید کاظمی نے آپکو سند اجازۃ فی روایۃ الحدیث کی اضافی اسناد سے نوازا۔۔جامعہ اسلامیہ میں قیام کے دوران آپ نے جن گرامی قدر اساتذہ کرام سے استفادہ کیا ان میں علامہ شمس الحق افغانی، علامہ احمد سعید کاظمی اور نائب شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید نعمانی کے علاوہ اسمائے گرامی یہ ہیں۔۔معروف مبلغ اسلام مولانا محمد احمد صاحب بہاولپوری، ڈاکٹر الٰہی بخش جاراللہ، مولانا لطافت الرحمن (فاضل دیوبند) شیخ مولانا سید حبیب اللہ شاہ بنوری (فاضل دیوبند) مولانا حسن الدین ہاشمی (شیخ الفقہ) ڈاکٹر محمد حسن ازہری (شیخ الادب) ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ (شیخ التاریخ) مولانا شیخ کلیم اللہ، مولانا محمد فرید، مولانا محمد ناصر، پروفیسر چراغ عالم قریشی (صدر شعبہ انگریزی) پروفیسر محمد زبیر (شعبہ اکنامکس)۔۔1973ء میں مولانا قاری فضل ربی صاحب (مہتمم معہدالقرآن الکریم مانسہرہ) نے آپ کو سند القراءت والتجوید للفرقان الحمید علی روایۃ حفص کی اعزازی سند عطا کی۔۔1976ء میں آپ نے پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔۔پھر مائیگریشن کے بعد 1977ء میں پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔۔جنوری 1978ء گورنمنٹ کالج سدہ (کرم ایجنسی) میں اسلامیات کے ایڈہاک لیکچرر کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئی۔۔مئی 1978ء میں پبلک سروس کمیشن صوبہ سرحد کی طرف سے بھی عربی و اسلامیات کے لیکچرر کی حیثیت سے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری ہوا اسکے بعد آپ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد، گورنمنٹ ڈگری کالج حویلیاں، گورنمنٹ کالج شیروان ایبٹ آباد میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بالآخر گورنمنٹ ڈگری کالج حویلیاں سے 8 جنوری 2013ء کو بیسویں گریڈ میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔۔1972ء میں تحصیل علم کے بعد جب آپ گھر واپس آئے تو مرکزی جامع مسجد حویلیاں میں اپنے والد گرامی کے ساتھ نائب کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے یہ سلسلہ والد گرامی کی وفات 1990ء تک جاری رہا۔۔اس مسجد کی بنیاد آپ کے والد گرامی نے 1956ء میں رکھی تھی۔۔آپ ایک اچھے خطیب اور مقرر ہیں۔۔26 جولائی 1990ء کو آپ کے والد گرامی کا انتقال ہوا۔۔اگلے روز والد گرامی کی نماز جنازہ سے قبل علاقہ بھر کے جملہ اقوام و قبائل کے شدید اصرار پر جمعیت العلماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا سمیع الحق صاحب کے دست مبارک سے آپ کی دستار بندی کی گئی اور آپ کو اپنے والد گرامی مرحوم کی جگہ مرکزی جامع مسجد حویلیاں کا محکمہ اوقاف صوبہ سرحد کی طرف سے اعزازی طور پر خطیب مقرر کیا گیا۔۔بحمداللہ اب تک آپ یہ ذمہ داری بحسن و خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔۔آپ 1974ء میں حضرت مولانا قاضی بشیر احمد پسروری کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔۔18 اکتوبر 1982ء کو مولانا انظر شاہ کشمیری (فرزند جلیل علامہ محمد انور شاہ کشمیری) ایبٹ آباد تشریف لائے تو حویلیاں کی جامع مسجد میں بھی انکا بیان رکھا گیا۔۔جس کے بعد شاہ صاحب کے ساتھ بالاکوٹ کے سفر میں شریک ہوئے اور شنکیاری ضلع مانسہرہ میں حضرت کا درس ہوا جس میں انہوں نے دیگر علماء کرام کے ساتھ آپ کو بھی سندالاجازہ فی روایۃ الحدیث عطا فرمائی۔۔1974ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔۔چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی اور بورڈ آف اسٹڈیز کی باضابطہ منظوری سے ایک طالب علم اظہر فرید رول نمبر 13163 نے 25 مئی 2015ء کے خط نمبر D/429-is کے تحت ایم اے کے مقالہ کے لئے پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی حیات و خدمات پر مقالہ پیش کر کے کامیابی حاصل کی۔۔پروفیسر علامہ قاضی محمد طاہر علی الہاشمی کی علمی و تحقیقی تصانیف حسب ذیل ہیں۔۔
(1) اصلاح معاشرہ (2) تحقیق نکاح سیدہ
(3) اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کون۔۔؟؟
(4) فرقہ مسعودیہ نام نہاد جماعت المسلمین کا علمی محاسبہ (5) حدیث حوأب کا مصداق کون۔۔؟؟۔۔(6) حدیث کلاب حوأب کا تاریخی، تحقیقی اور علمی محاکمہ
(7) سرگزشت ہاشمی (سوانح قاضی چن پیر الہاشمی)
(8) حج مبرور (9) کھلا خط بنام مولانا اللہ وسایا
(10) زلزلہ لولاک اور آفٹر شاکس (11) عمر عائشہ رضی اللہ عنہا پر تحقیقی نظر۔۔ایک تقابلی مطالعہ (12) شیعیت تاریخ و افکار (13) سقوط جامعہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا (14) تعارف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (15) تذکرہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (16) سیدنا معاویہ رضی اللہ پر اعتراضات کا علمی تجزیہ (17) عقیدہ امامت و خلافت راشدہ (18) ملی یکجہتی کونسل۔۔ایک تنقیدی جائزہ
(19) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ناقدین (20) امام طبری کون۔۔؟؟۔۔مؤرخ، مجتہد یا افسانہ ساز (21) سیدنا مروان شخصیت اور کردار (22) توضیحات بسلسلہ امام طبری کون۔۔مورخ مجتہد یا افسانہ ساز۔۔؟؟۔۔المعروف بہ کھلا خط بنام چیف ایڈیٹر روزنامہ اسلام (23) کتاب گلزار یوسف کا تنقیدی جائزہ (24) روداد مقدمات
راقم الحروف محترم قاضی طاہر علی الہاشمی صاحب کیساتھ بچین سے منسلک رہا۔۔چھوٹی عمر میں بڑے قاضی صاحب (قاضی چن پیر الہاشمی) کی جمعتہ المبارک میں مختلف موضوعات پہ تقریروں سے بہرہ مند ہوا انکی زندگی میں کبھی کبھار جبکہ وفات کیبعد پروفیسر قاضی طاہر علی الہاشمی کو تسلسل سے سالوں سنتا رہا۔۔بعد از نماز گھنٹہ بھر انکے کمرے میں بھی کئی سال نشست رہی۔۔آپکے ساتھ قربت سے بہت فائدے ہوئے۔۔سنی سنائی بات سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔۔مطالعہ کیطرف رغبت بڑھتی ہے جبکہ ذہن کھوج کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔۔سیاسی بیانات کے پیچھے چھپے دماغ کی جانکاری کیساتھ اختلاف رائے سننے، مسائل سے نبرد آزما ہونے اور انکا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے یہی حضرت پروفیسر صاحب کی کرامات ہیں کہ آپ اوندھے منہ گرنے سے بچ جاتے ہیں۔۔حضرت پروفیسر صاحب گھنٹوں اپنے کتب خانے میں لکھنے پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں۔۔ماضی قریب میں کئی مرتبہ وقت لیکر انکے دولت خانے پہ مختلف مسائل پہ گفتگو کرنے کا شرف حاصل ہوا۔۔انکی دو کتابوں پہ کالم بھی لکھے جو مقامی اخبارات کی زینت بنے تھے۔۔حضرت صاحب کتاب دینے میں سختی برتتے ہیں کیونکہ وہ تحقیقی نوعیت کے کام میں مصروف ہیں۔۔مگر اس سلسلے میں بھی انکی خصوصی محبت اور شفقت میرے ساتھ رہی۔۔مجھے انکے پیچھے نماز جمعہ کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ اگر نماز جمعہ انکے پیچھے نہ پڑھتا تو ایسے محسوس ہوتا شاید جمعہ ہی نہیں آیا۔۔اس سلسلے میں انکی آمد سے قبل ہی مسجد جا پہنچتا تھا۔۔وجہ یہی تھی کہ انکے خطبہ جمعتہ المبارک میں تحقیقی گفتگو ہوتی تھی جس سے سوچ و فکر کے نئے در وا ہوتے تھے۔۔مصروفیات کا ایسا تانتا بندھا کہ کئی سالوں سے انکی گفتگو کیساتھ نشست سے بھی فیض یاب ہونے سے قاصر ہوں۔۔اہلیان حویلیاں و مضافات ہی نہیں ملک کی نامور اہل علم و صاحب مطالعہ شخصیات حضرت پروفیسر صاحب کے فاضلانہ، محققانہ اور جرأت مندانہ کاوشوں پر صدق دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔۔عشاء کی نماز کے بعد مسجد کے کمرے میں چند افراد کیساتھ میں بھی حضرت پروفیسر صاحب کے پاس بیٹھتا تھا۔۔اس دوران بلب اور ہیٹر ہمیشہ بند رہتا تھا۔۔سخت سردی تھی سب ہی ٹھٹھر رہے تھے کیونکہ حضرت پروفیسر صاحب اس دوران ہیٹر اور بلب بند رکھتے تھے کہ یہ ذاتی مصرف ہے جس سے مسجد پہ بوجھ بڑھتا ہے۔۔محفل میں سے کسی نے کہا بہت سردی ہے۔۔تھوڑی دیر بعد پھر کسی نے کہا آج سردی بہت ہے۔۔حضرت پروفیسر صاحب نے کہا سردی تو بہت ہے مگر ہم یہاں مسجد کے کسی کام کیلئے نہیں بیٹھے ہوئے۔۔حضرت پروفیسر صاحب انسان ہیں فرشتہ قطعا نہیں مگر وہ قیمتی انسان ہیں جنکا نعم البدل مشکل ہے۔۔کتاب لکھنا اور شائع کروانا بہت مشکل کام ہے جو لوگ اس کام میں جتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں۔۔پھر لاکھوں روپے کا خرچ لگ اسکے باوجود تصنیفات کی لمبی فہرست عیاں کرتی ہیکہ وہ اس سمندر سے بھی بخوشی گزرے اور بار بار بخوبی گزرے اور ہر بار تحقیقی و علمی خزینے عوام کی جھولی میں ڈالتے رہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔۔عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے سیاہ کالی داڑھی آج سفید چٹی ہو چکی ہے۔۔حضرت قاضی صاحب کی سماجی خدمات بھی بے مثل ہیں مجھ جیسا لفظوں سے نابلد بھی لکھنے بیٹھے تو ایک ضخیم کتاب لکھ سکتا ہے۔۔حضرت پروفیسر صاحب سے خلوص دل سے محبت کرنے والے بہت ہیں مگر عمل کا ردعمل بھی ہوتا ہے اسی لئے نکتہ چیں بھی موجود ہیں۔۔(راقم الحروف) اس کشتی کا سوار ہے جہاں چاہنے والوں کا جم غفیر موجود ہے۔۔حضرت پروفیسر صاحب کیلئے دعاء ہیکہ اللہ تعالیٰ انکی یہ کاوشیں قبول فرما کر ذخیرۂ آخرت اور لوگوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔۔آمین۔۔
جاری ہے.

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

حضرت پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی” ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ کافی تفصیل سے حضرت کے حالات مل گے ہیں جی۔۔۔جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔حضرت کی اگر پی ڈی ایف کتابیں عنایت فرمادیں تو نوازش ہو گی جی۔۔۔
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
    فرخ عباس–حال مقیم دوبئی

اپنا تبصرہ بھیجیں