409

The fifth session of the Abbottabad University of Science and Technology Syndicate was chaired by President Vice Chancellor Abbottabad University Professor Dr. Iftikhar Ahmed.

ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی سنڈیکیٹ کا پانچواں اجلاس ز یر صدارت وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد منعقد ہوا ، جس میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور ، جسٹس (ر) عبدالطیف خان، عطاء الرحمن لودھی سابق سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ، علی قادر صافی ، ڈپٹی سیکرٹری یونیورسٹیز سہیل ، فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ڈپٹی سیکرٹری خورشید عالم ، پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار وویمن میڈم شاہین گل ، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین حویلیاں، یونیورسٹی کے افسران جن میں پائندہ خان، شاہ روم خان، اجمل خان اور ڈائریکٹر فنانس سردار غلام شریک ہوئے ،اجلاس کا ایجنڈارجسٹرار ایبٹ آباد یونیورسٹی و سیکرٹری سنڈیکیٹ ڈاکٹر سیف اللہ نے پیش کیا، اجلاس کے دوران ممبران نے ڈاکٹر اظہر شیر خیلی کی طرف سے یونیورسٹی کے طلبہ کو ورغلانے اور شیر انگیز تقریر کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طورپر انکو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا حکم صادر کیا، ممبران کی جانب سے ڈاکٹر اظہر شیر خیلی کے رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ، اسکے ساتھ ساتھ سنڈیکیٹ کے چوتھے اجلاس کی کاروائی اور اکیڈمک کونسل کی کاورائیواں کی منظوری کیساتھ ساتھ سکیل ایک تا سولہ کی بھرتیوں اور ترقیوں کیلئے سٹیچوٹس کے مطابق کمیٹی کی تشکیل ، سنڈیکیٹ کی طرف سے سلیکشن بورڈ کیلئے ممبر کی نامزدگی کیساتھ ساتھ مختلف کالجز کی طرف سے الحاق کیلئے کی گئی درخواستوں پر غوروغوص کے بعد متفقہ طور پر الحاق کی منظوری دی گئی اس موقع پر ممبران کی جانب سے یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے اور مالی طورپر مستحکم کرنے کے حوالے سے کئے جانیوالے اقدامات پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخاراحمد کی تعریف کی ، ا س موقع وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد جو کہ سنڈیکیٹ کے چیئر پرسن بھی ہیں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں بہتری آرہی ہے ، تمام شعبہ جات کو کمپیوٹرائزڈ کیا جارہا ہے جس کی ابتداء شعبہ امتحانات سے کر دی گئی ہے ، انشاء اللہ جلد ہی دیگر شعبہ جات بھی کمپیوٹرائزڈ کر دئیے جائینگے جس سے طلبہ کو سہولیات اور آسانیاں میسر آئینگی انہوں نے کہا کہ ملازمین اور اساتذہ کی بروقت حاضری کو یقینی بنانے کیلئے بائیو میٹرک پر حاضری کو لازمی قراردیاگیاہے ، انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے تدریسی اور انتظامی شعبہ جات میں دن بدن بہتری آرہی ہے ہماری کوشش ہے کہ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کا ایک اکیڈمک بلاک اپنے تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی وہ یونیورسٹی کے حوالے ہو جائینگے جس کے بعد کلاس رومز کی کمی کا مسئلہ بھی تقریباً حل ہو جائیگا، اس موقع پر سنڈیکیٹ ممبران نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی جانب سے یونیورسٹی کی ترقی کے حوالے سے کئے جانیوالے کاموں کو سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں