450

افسانہ دائرے کا اسیرتحریر ساجد خان حویلیاں پاکستان

افسانہ دائرے کا اسیرتحریر ساجد خان حویلیاں پاکستان
افسانہ دائرے کا اسیرتحریر ساجد خان حویلیاں پاکستان

افسانہ دائرے کا اسیرتحریر ساجد خان حویلیاں پاکستان
کچھ دنوں سے میں عجیب سے خیالات کے زِیر اثر تھا۔۔اکثر بیٹھے بیٹھے ایسا محسوس ہوتا کہیں دُور خلاؤں میں گھوم رہا ہوں۔۔۔مجھے لگنے لگا کہ وہاں بہت سی اور دنیائیں آباد ہیں۔۔۔جنکی کھوج ہم نے ہی کرنی ہے۔۔۔جن کے خط وخال بے حد خوبصورت تھے۔۔۔من چاہا کہ چھُو لوں۔۔۔سوچتے ہی جسم میں ایک لہر سی کوند گئی۔۔۔نجانے کس لحظے میرے اندر سویا سو کر جاگ اٹھا۔۔۔میں نے لمس محسوس کیا اور جسم کا حظ اٹھاتے ہوئے انجام کو جا پہنچا۔۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ دُنیا میں جانور انسانی شکلوں میں بھی موجود ہیں۔۔۔انسانوں میں اور بھی بہت سی قسمیں ہیں۔۔بعض تماشا دیکھتے ہیں۔۔۔بعض تماشا بناتے ہیں اوربعض تماشا بنتے ہیں۔۔
تم کون ہو۔۔؟؟۔۔۔ اُس نے اچانک سوال داغ دیا۔
م۔۔۔مے۔۔۔میں۔۔۔میں بہروپیاہوں۔۔
واقعی۔۔۔؟؟۔۔۔ وہ قدرے حیرانی سے پوچھنے لگا۔
ہاں۔۔۔اِس میں حیرانی کی کون سی بات ہے۔۔۔؟؟؟
وہاں کیا ہو رہا تھا۔۔؟؟۔۔۔ اُس نے کریدتے ہوئے پوچھا۔
وہاں کتے بھونک رہے تھے۔۔۔
چوزے کے پیچھے بلوٹا اور بلوٹے کے پیچھے پلا بھاگ رہا تھا۔۔۔بچھیرا بچھیری کو پکڑنے کی کوشش میں تھا وہ سرپٹ دوڑ رہی تھی۔۔۔سامنے لومڑیاں آپس میں چھیڑ خانی کر رہی تھیں۔۔۔بندر اُنھیں دِیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔۔۔چڑیاں شور مچا رہی تھیں۔۔۔کوئے اپنی ہی دُنیامیں مگن تھے۔۔۔گدھے لمبی تانے سو رہے تھے۔۔۔ قدرے دُور ایک جانب سور بھی کھڑے تھے۔۔۔جب کتے زور سے بھونکنا شروع ہوئے تو میرے اندر بیٹھا کتا بھی جاگ اٹھا اور بھونکنے لگا۔
وہ کیوں بھونک رہے تھے۔۔؟؟۔۔وہ تفصیل جاننا چاہتا تھا۔
وہاں ایک کتے کی موت ہوئی تھی۔
پھر۔۔۔؟؟؟۔۔۔اُس نے استفسار کیا۔
پھر ایک کتے کے بدلے تین انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
مسئلہ کیا تھا۔۔۔؟؟۔۔۔وہ دلچسپی لینے لگاتھا۔۔۔مسئلہ صرف ہٹ دَھرمی کا تھا۔
ایک کتے کے بدلے تین قیمتی انسانی جانوں کا بےدریغ قتل۔۔؟؟۔۔۔وہ مضطرب سا ہو گیا تھا۔
کیا اِ سکے علاوہ بھی کوئی عداوت تھی۔۔؟؟۔۔سوال کرتے وقت اُسکا چہرہ مغموم سا نظر آرہا تھا۔
نہیں اور کوئی بات نہ تھی۔۔۔جواب سن کے اُس کے چہرہ حیرت زدہ ہو گیا۔۔اُنکے آپس کے تعلقات کیسے ختم ہوئے ۔۔۔اُس نے تعلقات بارے سوال داغا، یاد رکھو۔۔۔تعلقات فطرتی طور پر کبھی بھی ختم نہیں ہوا کرتے۔۔۔اِن کا ہمیشہ قتل ہوا کرتا ہے اور اِس قتل کی وجہ ہمارے رویے، جھوٹی انا، جذباتیت،
مفادات اور دوسروں کو کمتر سمجھنا ہوا کرتا ہے۔۔۔
دوسری طرف اچانک زور سے دستک ہوئی۔۔۔میں نے پوچھا کون۔۔؟؟۔۔۔نجانے کیوں اس سمے میری آواز لرز سی گئی تھی۔۔۔کوئی جواب نہ پا کر میں فکر مند ہوا شاید وہ لوگ میرا تعاقب کر رہے تھے۔۔۔میں جلدی سے اٹھا اور وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔مسلسل دوڑنے کے بعد سستانے کے لئے ٹھہرا۔۔۔پیچھے مڑ کے دیکھا۔۔۔تو ایک لمبا قد۔۔۔مضبوط جسم۔۔۔میرے تعاقب میں تھا۔۔اس کی جانب دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔۔۔ وہ بے چہرہ تھا۔۔خوف کے مارے میرا جسم نڈھال ہونے لگا میں ہانپتا کانپتا سرپٹ دوڑنے لگا۔۔۔
وہ کیا چاہتا تھا..؟؟۔۔۔میں نے بھاگتے ہوئے خود سے سوال کیا۔۔۔شاید عمل۔۔۔کیسا عمل۔۔۔؟؟۔۔میں سوچنے لگا۔۔۔وہ چاہتا تھا۔۔۔میں اس کی بنائی گئی قبر میں رہوں۔
سامنے ایک نئی قبر کھودی گئی تھی۔۔۔نئی ہونے کے باوجود شکستگی عیاں تھی۔۔۔اطراف میں لگائے گئے تہہ درتہہ پتھر ذرہ بھی خوبصورت نہ تھے اُن میں سوراخ دیکھ کر میں تو گھبراگیا۔۔۔میرے اندر اندھیرا پھیلنے لگا۔۔۔جسم میں بے چینی سرایت کر گئی۔۔۔میں اُداس ہو گیا ایسے لگا جیسے کلیجہ حلق میں اٹکا ہوا ہو۔۔۔اچانک اس نے مجھے پکڑ لیا۔۔۔میں نے اُس سے پوچھا۔۔۔تم کیا چاہتے ہو۔۔۔؟؟؟
اس نے قبر کی طرف کنکھیوں سے اشارہ کیا۔
کیا مجھے یہاں رہنا ہے۔۔۔؟؟؟
اُس نے اثبات میں سر ہلایا۔
نہیں میں یہاں نہیں رہ سکتا۔۔۔میں نے ترش لہجے میں کہا۔۔۔میں تو نرم گداز بستر پہ سونے کا عادی ہوں۔۔۔ مٹی سے ہمیشہ خود کو بچایا۔۔۔ میرے گھر ماربل اور خوبصورت نقش و نگار سے مزین ٹائلیں لگی ہیں۔۔۔مگر وہ مُصر تھا۔۔میں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ زبردستی پہ اتر آیا۔۔۔وہ مجھ سے بہت طاقتور تھا۔۔۔میں نے بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔
وہ پھر سے میرے پیچھے بھاگنے لگا۔۔۔پھر نجانے کتنی ہی دیر ہم دونوں بھاگتے ہی رہے۔۔۔بھاگ بھاگ کر جب میں تھکاوٹ سے نڈھال ہوا تو اُس نے مجھے دبوچ لیا۔۔۔میں تھرتھر کانپ رہا تھا۔۔۔جو جہاں تھا۔۔۔جیسا تھا۔۔۔رک چکا تھا۔۔۔مجھے جان کے لالے پڑگئے۔۔۔میں نے زور سے چیخ ماری مگر میری کوئی نہیں سن رہا تھا۔۔۔اُس کی ایک ہی منشا تھی۔۔۔مجھے یہاں ہر صورت رہنا ہے۔۔۔مجھے ایسے لگا میں مر چکا ہوں۔۔موت کے احساس نے میری سٹی گم کر دی۔۔۔اب میں نے کب زندہ ہونا ہے شاید صدیوں بعد میری قبر کا تو نشان تک مٹ ہو جائے گا۔۔۔اُس لمحے میں سسکیاں بھر بھر رونے لگا۔۔۔مجھے خاموش کروانے اور ڈھارس بندھانے والا کوئی نہ تھا۔۔۔میں نے لوگوں کی طرف دیکھا۔۔۔سب تماشائی تھے۔۔میں تنہا۔۔۔بالکل تنہاتھا۔۔۔اتنا تنہا کہ تنہائی بھی دنگ رہ گئی۔۔۔سامنے گھنے درخت، خود رو جھاڑیاں اور کانٹے ہی کانٹے تھے۔۔۔جن میں موت کی بوپھیلی تھی۔۔میں حیرت زدہ رہ گیا اور تحیر میں ڈبکیاں کھانے لگا۔۔۔مجھے لگا چاروں اور ویرانی ہی ویرانی تھی۔۔۔وقت کا احساس شدت سے دامن گیر تھا۔۔۔وہ وقت جو پل پل سرکتا تھا۔۔آج جامد ہو چکا تھا۔۔۔مجھے کچھ سجھائی نہ دیا تو میں نے زور سے چیخ ماری۔۔۔میری چیخ دوسری چیخوں میں دَب کہ رہ گئی۔
اُس لمحے ہر جانب چیخیں گونج رہی تھیں۔۔۔میں وہاں سے نکل کھڑا ہوا۔۔۔احاطے سے قدرے دُور کچھ اور نئی قبریں بھی تھیں۔۔جن میں رہا جا سکتا تھا۔۔۔میں نے التجا کی مجھے ان میں سے ایک قبر دی جائے۔
وہاں کھڑا بس مسکرا دیا۔۔۔اُس کی زیرلب مسکراہٹ میں کئی معنی پوشیدہ تھے۔۔۔مجھے بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ آگے کی راہ لو۔۔۔یہاں کا کرایہ تمھاری دسترس سے باہر ہے۔۔۔ مجھے اس بات پر بے حد غصہ آیا۔۔۔ میں نے اپنی جیب سے بہت سے سکے نکالے اورا س کے سامنے رکھ دئیے۔۔۔سکے دیکھتے ہی بے زاری سے کہنے لگا۔۔سکے اُٹھاؤ۔۔!!۔۔۔یہ سکے یہاں نہیں چلتے۔
میں نے وہاں کی کرنسی کے متعلق پوچھا۔۔۔تو اُس نے مجھے سفید چمکتے سکے دکھائے جو میں نے اس سے قبل کبھی نہ دیکھے تھے۔۔یہ سکے کہاں سے اور کیسے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔۔؟؟۔۔اُس نے مجھے ساری معلومات دیں تو میں پریشان ہو گیا۔۔۔مجھے یقین ہو چلا کہ اب مجھے تماشا بننے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔۔میں وہاں سے قدرے آگے نکلا۔۔۔وہاں ہر جانب خوشبوئیں پھیلی تھیں۔۔خوشبو کا سونگھنا تھا کہ میں خود کو معطر محسوس کرنے لگا۔۔۔ایک مسحور کن لہر میرے جسم میں پھیل گئی۔۔۔سامنے بلند مسندوں پہ کچھ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔ایک جانب خوبصورت ،سفید، چمکتے چھریرے بدن حرکت کر رہے تھے ۔۔۔میں نے غور سے دیکھا۔۔۔میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔۔۔ وہ تو نرم و نازک ،پتلی لمبی عورتیں تھیں۔۔ایسی خوبصورت عورتیں میں نے کبھی نہ دیکھی تھیں۔۔وہ مستی بھرے انداز میں جھوم رہی تھیں۔۔ان کے جسم ایک خاص لے پر حرکت کر رہے تھے۔۔مجھے ایسا لگا وہ کسی شے کے گرد دائرے میں چکر لگا رہی ہیں۔۔۔عجیب سرور و مستی میں ان کا لہک لہک کر چلنا۔۔۔اُن کی نازک ادائیں۔۔۔بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔عجیب سی کشش رکھتی تھیں۔۔۔لانبے لابنے گیسو جو ٹخنوں کو چھو رہے تھے۔۔۔زمین کی جگہ پانی تھا جس کے اوپر وہ پھسلی پھسلی جا رہی تھیں۔۔۔جی چاہنے لگا میں اُنہیں چھو لوں۔۔اچانک کسی نے میری گردن دبوچ لی۔۔۔میں نے گردن چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر اُن آہنی ہاتھوں کی مضبوط گرفت سے نکلنا محال تھا۔۔۔میں کچھ دیر زور لگاتا رہا پھر نجانے کب میری طاقت جواب دے گئی۔۔۔ میں خود کوبے بس محسوس کرنے لگا۔۔۔
وہ مجھے گھسیٹنے لگا۔۔۔ درد سے میری گردن ٹوٹ رہی تھی۔۔گردن پہ دباؤ سے آنکھیں پھٹنے کو تھیں۔۔۔خوف سے میرا جسم کانپنے لگا سخت دباؤ سے سانس لینا مشکل تھا۔۔۔سامنے مسندوں پہ بیٹھے لوگ میری جانب دیکھنے لگے۔۔میں چاہتا تھا وہ میری مدد کریں مگر وہ مجھ سے بیزار تھے۔۔۔ سب میرا تماشا دیکھ رہے تھے۔۔۔ میں اُن لوگوں میں کوئی شناسا چہرہ ڈھونڈھنے لگا۔۔جو میری اس آہنی گرفت سے خلاصی کراوئے۔۔۔مجھے گھسیٹتے ہوئے ایک ڈھیر پہ پھینک دیا گیا۔۔۔وہاں بے حد تیز بدبو تھی۔۔۔اِس قدر تعفن کہ سانس لینا محال تھا۔۔۔مجھے خود سے گھن آنے لگی۔۔۔پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے۔۔۔ آنتیں بل کھانے لگیں۔۔۔ایسے لگا سب کا سب منہ سے باہر نکل آئے گا۔۔۔میری اذیت میں اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔میں نے دیکھا بڑی مسندوں پہ بیٹھنے والوں کا دروازہ بند ہو چکاَ وہاں ایک بے چہرہ طاقتور جسم کھڑا ہے جسے دیکھ کر میں خوف کھانے لگا اس جانب جانا نا ممکن تھا۔۔۔میں سوچوں میں ہی تھا کہ ایک شفاف جسم میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔میری نظر اس کے پاؤں جانب اٹھی تو آئینے کی طرح شفاف فرش حد نگاہ تک پھیلا تھا۔۔۔جب کہ غلاظت پہ صرف میں ہی کھڑا تھا ۔۔۔
کس سے ڈر کر بھا گ رہے ہو۔۔؟؟۔۔۔اُس نے نرم لہجے میں پوچھا۔۔م۔۔۔مے۔۔۔میں۔۔
تم جس سے بھاگ رہے ہو۔۔۔ اُس سے تم نہیں بھاگ سکتے
کیوں۔۔میں نے کریدتے ہوئے پوچھا
اپنے آپ سے بھی بھلا کبھی کوئی بھاگ سکتا ہے۔۔۔؟؟؟۔۔۔اس نے پیار بھری نظروں سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کے سفید موتی جیسے دانتوں کی چمک سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔۔جب یہ الفاظ میرے کانوں تک پہنچے تو اس کے ہونٹوں کی جنبش سے خوشبو چار سوپھیل چکی تھی۔
اُس کی منت سماجت کرتے ہوئے میں نے راستہ پوچھا۔۔۔ اور اپنے سکے اس کے سامنے رکھ دیئے۔
وہ کچھ سوچنے لگا۔۔۔۔میں نے التجا کی کہ وہ میری مدد کرے۔۔۔اُس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔شاید یہ ممکن نہ ہو۔۔۔
میں رونے لگا تو وہ کہنے لگا۔۔۔میں جانتا ہوں۔۔۔تم تنہا رہ گئے ہو۔۔۔مگر کیا تم نہیں جانتے تھے کہ سب تنہا ہوتے ہیں ۔۔۔اپنا ساتھی توخود بنانا پڑتا ہے۔
ہاں جانتا تھا پر۔۔۔جواب دینے کے بجائے میری گھگی بندھ گئی۔۔اچانک کسی جانب سے شور بلند ہوا۔۔۔الفاظ حد درجہ کرخت تھے جو سماعت پہ گراں گذر رہے تھے۔
میں نے آوازوں بارے استفسار کیا۔۔۔تو وہ زِیر لب مسکرا دیا ۔۔۔مسکرانے کی وجہ پوچھی تو بے زاری سے کہنے لگا ۔۔۔کیا اپنی آواز اور الفاظ بھی نہیں پہچان سکتے۔۔۔مجھے سرانڈ سی محسوس ہوئی اور سانس لینا پھر سے مشکل ہو گیا ۔۔۔وہ میری حالت بھانپ کر کہنے لگا۔۔۔بدبو محسوس کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟۔۔۔ میں بمشکل ہاں کہہ سکا۔
یہ تمھارے اندر کے غلاظت ہے جوبد بو کی صورت تم محسوس کر رہے ہو۔۔میں اِس مصیبت سے خلاصی چاہتا تھا۔
وہ کہنے لگا۔۔پیچھے دیکھو۔۔میں پیچھے مڑا تو وہاں میری صورت کا ایک اور کھڑا تھا۔۔پہلے لگا آئینہ ہے جس میں میں خود کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔مگر وہ میری تصویر تھی۔۔۔پھر وہ جسم حرکت کرنے لگا۔۔۔وہ میں نہ تھا۔۔۔میرا دوسرا جسم تھا۔۔۔بے وزن جسم۔۔۔
اپنے جیسا ایک اور دیکھ کر میں کچھ گھبرا سا گیا۔۔۔اگر میں یہ ہوں۔۔تو وہ کون ہے۔۔۔؟؟۔۔۔اور اگر میں وہ ہوں تو میں کون ہوں۔۔۔؟؟۔۔میں سٹپٹا ساگیا۔
یہ کون ہے۔۔؟؟۔۔میں نے روشن جسم سے ہکلاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ وہ کرخت اور قدرے رعب دار آواز میں کہنے لگا۔۔۔تم نے صرف ایک نقطے میں ساری زندگی گزاری تھی۔۔۔اس نقطے کی زندگی نے آج تمھیں دائرے میں ذلیل و رسوا کردیا۔۔۔وہ وقت جس کی پاداش میں آج تم ٹھوکریں کھا رہے ہو۔۔صرف ایک ساعت تھی تم اس ساعت کے امتحان میں پیچھے رہ گئے ہو۔
مگر کیوں۔۔؟؟۔۔میں نے وجہ پوچھی۔
تم نے اُس ساعت میں داغ دھونے تھے اور اُن داغوں کی جگہ روشنی نے لینی تھی۔۔اچانک قوس قزح سے کہیں زیادہ دلکش رنگ ایک دوسرے میں ملتے ملاتے عجیب منظر پیش کرنے لگے۔۔۔دھیرے دھیرے مختلف رنگ سفیدی میں بدلتے جا رہے تھے ۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں ہر جانب سفیدی پھیل چکی تھی ۔۔۔میں جس جانب بھی دیکھتا۔۔۔آنکھیں چندھیا دینے والی سفید روشنی تھی۔۔۔کبھی تو ایسے لگتا کہ ہر جانب آئینے ہیں جو روشنی کو منعکس کر رہے ہیں۔۔۔یہ دیکھ کر میرا جسم یخ ہو چکا تھا۔۔۔مگر پسینہ پھر بھی آرہا تھا۔۔۔سب دیکھ کر بھی سب میرے حواس سے ماوراء تھا۔۔۔میں اس کے پاؤں پڑنے کو تھا کہ وہ غائب ہو گیا۔۔۔شاید سامنے تاریکی میں دیوار کی اُس جانب جا چھپا تھا۔۔
مگر۔۔۔نہیں۔۔۔ اُس کا روشن جسم تو سامنے والی تیز روشنی میں مُدغم ہو گیا تھا۔۔۔میں فضا میں دیکھنے لگا جو تاحد نظر پھیلی ہوئی تھی۔۔میں دائرے میں کھڑا تھا ۔۔۔یہ دائرہ ایک اور د ائرے میں ضم اور وہ دائرہ ایک اور دائرے میں ختم۔۔ہر دائرے کے بعد ایک اور دائرہ۔۔تا حدنظر۔۔۔یہ سلسلہ جاری تھا۔۔۔سارے تماشائی جا چکے تھے !!!!……افسانہ دائرے کا اسیرتحریر ساجد خان حویلیاں پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں