592

افسانہ۔۔ ۔مجھے روشنی چاہئیے۔۔۔ تحریر ساجد خان حویلیاں

افسانہ۔۔۔مجھے روشنی چاہئیے۔۔۔
تحریر ساجد خان حویلیاں پاکستان
▪▪٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭▪▪
میں اچانک بیمار نہیں ہوا تھا بلکہ ایک عرصہ سے اس عارضے میں مبتلا تھا۔۔ڈاکٹروں اور حکیموں سے ادویات لیتا اور است عمال کرتا رہا۔۔مگر جسمانی نقاہت روز بروز بڑھتی ہی رہی۔۔دم درود بھی کروائے۔۔اب تو حالت یہ ہو چکی تھی کہ ٹھیک طرح سے چلا بھی نہیں جاتا تھا۔۔۔کمزوری پورے وجود میں سرایت کر چکی تھی۔۔وہ دن شدت سے یاد آتے جب جسم کے اندر طاقت اور توانائی تھی۔۔اب تو سب خواب سا محسوس ہوتا تھا۔۔وہ بھی کیا وقت تھا، گرمی، سردی کی بھی پرواہ نہ کی تھی۔۔برف ہو یا کڑاکے کا جاڑا، کام میں جتا ہی رہتا۔۔۔سخت گرمی میں پسینے پسینے ہو جاتا پر کام ختم کر کے دم لیتا۔۔بیماری نے ایسا گھیرا کہ ہسپتال جا پہنچایا۔۔مجھے کس نے ہسپتال داخل کرایا۔۔کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔۔میں سن سکتا تھا، دیکھ سکتا تھا اور محسوس بھی کر سکتا تھا۔۔۔مگر لاکھ کوشش کے باوجود کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔۔۔الفاظ گلے میں ہی پھنس کر رہ جاتے اب تو جسم میں اشارہ کرنے کی ہمت بھی نہ تھی۔۔میرے گھر والے، عزیز و اقارب، دوست احباب میرے پاس آتے۔۔جو بھی مجھے دیکھنے آتا میرا جائزہ لینے کے بعد میرے بیٹے سے کچھ دیر تک کھسر پھسر کرتا۔۔جس کی مجھے تو سمجھ نہ آتی۔۔مگر میں ان کے چہروں کو پڑھنے کی ناکام سی کوشش ضرور کرتا۔۔ڈاکٹروں کی ٹیم نت نئے تجربے مجھ پر کر رہی تھی۔۔ کوئی کچھ کہتا تو کوئی کچھ، میں جان چکا تھا کہ انکی ساری مسیحائی صرف مفروضوں پر مبنی ہے۔۔میرے جسم سے بار بار خون لیا جاتا اور مختلف لیبارٹریوں کو بھجوا دیا جاتا۔۔میں روز روز کی اِس اذیت سے عاجز آ چکا تھا۔۔وہ شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ میرے خون کا گروپ O+ve ہے۔۔جس کی دستیابی عام اور آسان ہے۔۔مجھے کالج کا زمانہ یاد آ گیا۔۔جب کبھی کسی کو خون کی ضرورت پڑتی تو ہم سب دوست خون کا عطیہ دینے پہنچ جاتے۔۔اب وہی خون بار بار نکال کر معائنہ کیا جا رہا ہے جس خون نے کئی زندگیوں کی شمعیں روشن کیں تھیں۔۔مجھے بار بار خون کا معائنے کے لیے بھجوانا بالکل بھی پسند نہ تھا مگر اس کے بغیر کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔۔بچپن کی بہت سی باتیں یاد آنے لگیں۔۔ وہ دن جب مجھے والد صاحب اسکول داخل کروانے کے لیے لے گئے۔۔اس دن میں نے نئے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔مجھے جوتے، بستہ، کتابیں سب کچھ نیا خرید کر دیا گیا تھا۔۔جب میں واپس لوٹا، میری والدہ قدرے تیز قدموں میری جانب لپکیں۔۔مجھے دِل سے لگا کر میرا ماتھا چومتے ہوئے کہنے لگیں ’’میرا بیٹا پڑھ کے آیا ہے۔۔۔‘‘میرے جنم دن پر والد کی خوشی، والدہ کا مسکراتا چہرہ، بہن کا کبھی برآمدے میں تو کبھی سجے سجائے کمرے میں بار بار چکر لگانا اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ خوب اچھل کود کرنا۔۔کیک کاٹتے ہوئے میرے دوستوں اور بہن کی سہیلیوں کا جوش و خروش۔۔یہ سب کل کی باتیں لگ رہیں تھیں۔۔مجھے آج بھی وہ دن یاد آیا جب میں نے پہلا روزہ رکھا تھا۔۔موسم نسبتاً گرم تھا۔۔ والدہ نے روزے سے منع کیا جبکہ والد عادت بن جانے کی غرض سے خاموشی اختیار کیئے ہوئے تھے۔۔میرا دل بہت چاہ رہا تھا سو میں نے جیسے تیسے روزہ رکھ لیا۔۔میری عمر بے حد کم تھی۔۔شاید سات، آٹھ سال کے لگ بھگ۔۔عصر کی اذان کے وقت تو میرا روزہ افطار کرنے کو جی کر رہا تھا مگر والدہ میرا دل بہلاتی رہی۔۔وہ جان چکی تھیں کہ مجھے بھوک اور پیاس ستا رہی ہے۔۔والد مجھے اپنے ساتھ بازار لے گئے اور وہاں سے مختلف پھل لے کر دئیے۔۔وہ بھی میری پیاس سے آگاہ تھے اسی وجہ سے وہ میری توجہ مختلف جانب مبذول کیے جا رہے تھے۔۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں اپنے حصے کے آم گھر میں رکھی ٹھنڈے پانی کی بالٹی میں بار بار اُچھال رہا تھا۔۔ان دِنوں ہمارے محلے میں کسی کے گھر بھی فریج نہیں تھا۔۔برف کے لیے بازار ہی جانا پڑتا تھا۔۔اس دن والد صاحب برف کچھ زیادہ ہی لے آئے تھے۔۔میں اپنے آم اسی برف میں ٹھنڈے کر رہا تھا۔۔جوں جوں مجھے پیاس ستاتی توں توں میں بالٹی میں برف ڈالتا۔۔جب میری چھوٹی بہن نے بھی اپنے آم اسی بالٹی میں ٹھنڈے کرنے کی ضد کی تو میری اس سے توں تکرار ہو گئی۔۔میری ایک ہی رٹ تھی۔۔۔ کیا اس کا روزہ ہے۔۔؟؟
والدہ مجھے سمجھانے لگی۔۔بیٹا ! اس کا روزہ تو نہیں لیکن یہ تمہاری چھوٹی بہن ہے۔۔پھر تھپکی دیتے ہوئے کہنے لگیں۔۔
بیٹا ! صبر کرو، روزے کا مقصد تو صبر کرنا ہے‘‘۔وقت کی نیا کتنے پانی پار کر گئی۔۔پتا ہی نہ چلا کہ ہم جوان ہو گئے۔۔بہن اپنے گھر کی ہوئی۔۔اس دِن ہمارے گھر میں بڑی اداسی تھی۔۔ والدین خاموش بیٹھے گم سم کافی دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے گھر سونا سونا لگنے لگ رہا تھا۔۔بہن کیساتھ گھر کتنا سندر تھا۔۔۔وقت کب کسی کا انتظار کرتا ہے۔۔وقت نے کروٹ لی میری شادی کا دن بھی آ گیا، والدین کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔۔گھر میں رشتہ داروں، محلے داروں اور تعلق داروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔۔کچھ سالوں بعد مجھے اللہ رب العزت نے ایک بیٹے کے بعد بیٹی سے نوازا۔۔جب والد صاحب ہمیں زیست کے سفر میں اکیلا چھوڑ کر اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے تو ہر جانب ویرانی ہی ویرانی محسوس ہونے لگی۔۔والدہ کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔۔
انکی وفات کے بعد خاموش سی رہنے لگیں تھیں۔۔جب بھی بات کرتیں تو کسی نہ کسی بہانے انکو یاد کرتیں اور رو پڑتیں۔۔والد کی وفات کے کچھ عرصہ بعد والدہ بھی ہمیں داغِ مفارقت دے گئیں۔۔۔
کچھ دِنوں کے سوگ کے بعد ضروریات اور خواہشات میں ایسا اُلجھا کہ کبھی کبھار ہی والدین کی یاد آتی۔ پہلے پہل والدین کی قبر کی زیارت کرنے جاتا رہا پھر بات ہفتوں سے مہینوں اور مہینوں سے سال تک جا پہنچی۔۔۔ رفتہ رفتہ عید پر بھی جانا محال ہوتا گیا..بس گھر میں ہی دعا کر لیتے۔۔۔
مجھے بچوں کی فکر لاحق تھی۔۔بیٹی کی تعلیم اور اچھے خاندان میں شادی، بیٹے کا بہتر مستقبل اور بڑے عہدے پر تعیناتی، میرے خوابوں کا محور بن چکی تھی۔۔ خواہشات کی تکمیل میں یہ خبر ہی نہ ہوئی کہ زندگی تو گزر چکی ہے۔۔سیاہ بال سفید، سرخ رنگت گندمی، مضبوط اعصاب کمزور اور جسم کی طاقت جواب دے چکی تھی۔۔اب ڈاکٹروں کے ہاں تسلسل سے جانا معمول بن گیا تھا۔۔کچھ دِنوں بعد گھر والے بھی تنگ پڑنے لگے، بظاہر میرا خیال رکھنے والے اندر ہی اندر کچھ اور سوچ رہے تھے۔۔ان کا ڈاکٹروں سے رابطہ بھی تھا۔۔ایک دن میں نے خود سنا کہ کوئی کہہ رہا تھا ’’پندرہ دِن مزید زندہ رہیں گے تو کیا ہو گا۔۔؟؟۔۔بس دعا کریں کہ اللہ انھیں سنبھال لے، سخت اذیت میں مبتلا ہیں‘‘ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ انھیں گھر لے جائیں۔۔میں گھر جانا چاہتا تھا پر تکلیف تھی کہ دور ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔۔جو کھاتا الٹ دیتا۔۔میرا معدہ خوراک کا طلب تھا مگر میرا حلق خوراک کا دشمن۔۔منہ میں پانی ڈالا تو حلق نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔کئی دنوں سے رفع حاجت نہ کر سکنے کی وجہ سے سر میں درد اور طبیعت میں عجیب سی بے چینی تھی۔۔۔میرے دوست آتے۔۔میرے سرہانے کھڑے ہو کر میری جانب دیکھتے تو ان کے چہروں سے رنجیدگی عیاں ہوتی۔۔کچھ کی نظریں ملتے ہی آنکھیں چھلک پڑتیں۔۔اُنہیں دیکھ کے میرا دِل بھی بیٹھنے لگتا۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ میرے وجود میں اضطراب بڑھتا گیا۔۔ڈاکٹروں نے صاف جواب دے دیا تھا مگر میرے گھر والے مجھ سے مخفی رکھنا چاہتے تھے۔۔جب بیٹے نے مجھے گھر جانے کا کہا تو مجھے بہت بُرا لگا۔۔میں نے اُس کی جانب حیرت سے دیکھا۔۔میں کہنا چاہتا تھا کہ میں بیمار ہوں۔۔
وہ میری نظروں میں پوشیدہ سوال پڑھ چکا تھا۔۔میری ڈھارس بندھاتے ہوئے کہنے لگا، ابو آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔ڈاکٹر سے میری بات ہو چکی ہے۔۔وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ آپ کا علاج گھر پہ مناسب رہے گا‘‘۔۔مجھے اٹھا کر کرسی پہ بٹھایا گیا۔۔مجھے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔۔میں کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔۔۔پھر کسی نے چارپائی لائی اور مجھے چارپائی پر ڈال دیا۔۔جیسے تیسے گھر پہنچایا گیا۔۔محلے داروں، تعلق داروں کا جم غفیر تھا، کوئی کچھ کہتا تو کوئی کچھ۔۔۔بے ہنگم سی آوازیں مجھے پریشان کر رہی تھیں۔۔۔میں نے آنکھیں کھولیں میرا بیٹا ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھ رہا تھا۔۔افسردگی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔۔وہ جب چھوٹا تھا تو اُس کی توتلی باتیں سن کر بڑا سرور ملتا تھا۔۔میں اسے باتوں میں لگائے رکھتا، وہ ہر لفظ کے آخر میں ’’ر‘‘ اور ’’ش‘‘ کا اضافہ کرتا۔۔ان دِنوں بجلی کم ہی میسر تھی میں اس کے لیے ہاتھ والا پنکھا لے آیا تھا۔۔سارا دِن اُس کی ماں، پھوپھی یا بہن اُسے پنکھا جھولاتیں۔۔جب میں گھر میں ہوتا تو یہ کام اپنے ذمے لے لیتا۔۔مجھے وہ راتیں بھی یاد آنے لگیں جب پوری رات میں اور میری شریکِ حیات اس کو پنکھا جھلتے رہتے تا کہ اُسے گرمی اور مچھروں سے محفوظ رکھ سکیں۔۔سامنے کھڑی میری اکلوتی بیٹی( میرے دل کا ٹکڑا ) میرے چہرے کا بھرپور جائزہ لے رہی تھی۔۔اس کی ڈبڈباتی آنکھوں میں پھیلی افسردگی اور چہرے کی کملاہٹ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔اس لمحے مجھے اپنی شریک حیات کی یاد شدت سے آنے لگی۔۔جو مجھے زندگی کے اِس سفر میں داغِ مفارقت دے گئی تھی۔۔وہ ہوتی تو بے حد مضطرب ہوتی، وہ میری ذرا سی تکلیف پہ چلا اٹھتی تھی۔۔
میرے پورے وجود میں صرف آنکھیں تھیں جو میری زندگی کے آثار کا پتا دے رہی تھیں۔۔کوئی میرے جسم کو ہاتھ لگاتا تو قدرے سکون محسوس کرتا ورنہ پورا جسم ہی سُن ہو چکا تھا، چھو لینے پر اپنے ہونے کا احساس ہوتا۔۔میں اپنی بیٹی اور بیٹے سے دور نہیں جانا چاہتا تھا۔۔میں طویل عرصہ اُن کے ساتھ گزارنے کا متمنی تھا۔۔اب مجھ پر غنودگی کی کیفیت طاری ہونے لگی تھی۔۔کئی کئی گھنٹے مجھے ہوش نہ رہتا تھا۔۔جب قدرے سنبھلتا تو بچوں کے افسردہ چہرے میرے سینے میں آگ لگا دیتے۔۔سب مجھ سے باتیں کرنا چاہتے تھے مگر میں لاکھ کوشش کے باوجود کچھ بھی کہنے سے قاصر تھا۔۔ابو جی، ابو جی، محبت اور التجا سے بھری آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔میری بیٹی مجھ سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔میں نے آنکھیں کھولیں پر اسکو جواب نہ دے سکا۔۔سامنے دیوار پر میری جوانی کی تصویر آویزاں تھی۔۔
جس میں میرا مسکراتا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔۔
میرے پہلو میں بیٹا کھڑا تھا اور گود میں بیٹی تھی۔۔
یہ تصویر غالباََ تیس برس پہلے کی تھی۔۔اِس بستر پر پڑے پڑے مجھے کئی برس بیت گئے۔۔ان برسوں میں زندگی کے شب و روز کی گنتی کے علاوہ کچھ بھی تو نہ تھا۔۔مجھے ہسپتال سے گھر آئے پانچ دن گزر چکے تھے۔۔اب میرے سرہانے بیٹھ کر کچھ لوگ تلاوت کر رہے تھے۔۔سامنے بیٹھی میری بھانجی زیرلب کچھ پڑھ رہی تھی۔۔میرا لاڈلا بیٹا کہاں ہے۔۔؟؟۔۔میری نظریں اسے تلاش کر رہی تھیں، شاید وہ کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔۔مجھ پرغنودگی غالب آنے لگی تھی۔ میں اپنی آنکھیں کھولنا چاہتا تھا مگر وہ کھلنے سے قاصر تھیں۔۔سب لوگ اونچی اونچی آواز میں کلامِ پاک پڑھے جا رہے تھے۔۔میرے کان کے ساتھ کسی نے اپنے ہونٹ لگائے۔۔۔ مجھے اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں سنائی دینے لگیں۔۔میں نے اپنی آنکھوں کو بہت زور لگانے کے بعد کھولا میری آنکھیں بے حد بوجھل ہو چکی تھیں۔۔اِس پل مجھے ایسا لگا کہ سب کے چہروں پہ مسکراہٹ پھیل رہی ہے۔۔میرے جانے سے سب کے سب بے حد خوش ہیں۔۔پھر نہ جانے انہیں کیا ہوا۔۔سب کے چہروں پر رنجیدگی پھیلنے لگی۔۔جب میری سانسیں ڈوب رہیں تھیں تو اُن کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔۔مجھے اپنی بیٹی کی دلخراش چیخ سنائی دی۔۔اس نے بھائی کو آواز دی، اسکی آواز میں عجیب سوز تھا۔۔وہ گھبراہٹ سے بھاگا بھاگا مجھ سے لپٹ کر رونے لگا۔۔میری اکلوتی بیٹی کی آنکھوں سے آنسو میرے قدموں پہ گرنے لگے، اس کے گرم گرم آنسوؤں کو میں نے اپنے پاؤں پرمحسوس کیا تھا۔۔جب وہ اپنا چہرہ میرے پاوں سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو اس سمے مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی رہی تھی۔۔مگر میری لاچاری اور بے بسی آڑے آ گئی۔۔ورنہ میں اپنی لاڈلی کو اسطرح سے بھلا کب رونے دیتا۔۔میرے کان کے ساتھ ہونٹ لگائے کوئی شخص نبی آخر الزمان کے رسول برحق ہونے کی شہادت دے رہا تھا۔۔
میں سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مجھے عجیب سی گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔۔مجھے وہ وقت یاد آیا جب صبح سویرے میں کھلی فضا میں کھڑے ہو کر سورج کی کرنوں کو غور سے دیکھا کرتا تھا۔۔آج مجھے سورج غروب ہوتے وقت کی سرخی دکھائی دے رہی تھی۔۔میں بہت مضطرب سا ہو چکا تھا۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھیں جو میری زندگی کی واحد نشانی بتائی جاتی تھیں بند ہو چکی تھیں۔۔تدفین کی تیاریاں شروع تھیں۔۔میری ٹانگیں اور بازو درست کیے جا رہے تھے۔۔میرے ہونٹوں اور آنکھوں پر کسی نے نرم گرم ہاتھ پھیرے۔۔انگلیاں سیدھی کی گئیں۔۔۔ مجھے غسل دیا جانے لگا۔۔۔کفن پہنا کر خوشبوئیں چھڑکی گئیں۔۔مجھے اِن تمام مراحل سے میرے چاہنے والوں نے اچھی طرح سے گزارا۔۔دوسری جانب بہت سے افراد اپنی گھڑیوں کو بار بار دیکھے جا رہے تھے، شاید میرا دنیا میں مزید قیام اُن کے لیے ناگوار تھا، وہ جلد از جلد مجھے مٹی میں ملانے کے لیے بے چین تھے، میرا بیٹا میری میت اٹھانے پہنچا تو میری بیٹی، بہن اور بھانجیاں اُس سے لپٹ گئیں مجھے بھی بے حد دکھ ہو رہا تھا۔۔پھر اِدھر اُدھر سے بے ربط آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔۔۔میت اٹھائیں، جلدی کریں، ذرہ سا تیز چلیں، وقت کم ہے، لوگ انتظار کر رہے ہیں۔۔میری نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور تدفین کے عمل میں سب شریک ہوئے، جب مجھے قبر میں اتارا گیا تو کسی نے میرے بیٹے کو آواز دی۔۔۔اپنے والد کا آخری دیدار کر لو، میرے چہرے سے تھوڑی دیر کے لیے کفن ہٹایا گیا پھر کفن کی گرہیں کھولی گئیں، میرے اوپر سل رکھنے کا عمل شروع ہو چکا تھا، سوراخوں میں چھوٹے چھوٹے پتھر رکھکر سارے سوراخ بند کیئے جا رہے تھے۔۔اور سلوں پہ منوں مٹی کا وزن۔۔کسی نے میری قبر کے سر والی جانب بڑی سل گاڑ دی تھی، مٹی مٹھیاں بھر بھر ڈالی گئی، عطر کا چھڑکاؤ ہوا، میرے بیٹے نے قبر پہ پھول کی پتیاں ڈالیں۔۔پھر آہستہ آہستہ سب چلتے بنے۔۔میں اکیلا اندھیرے میں ڈوب گیا۔۔سب جانتے ہیں مجھے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔تب مجھے دُور بہت دُور سے روشنی اپنی سمت آتی دکھائی دی۔۔روشنی دیکھ کر مجھے قدرے اطمینان ہوا۔۔
روشنی مسلسل میری طرف بڑھ رہی تھی۔۔اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ میری قبر میں پہنچ آئی۔۔روشنی دو ہاتھوں میں اٹھایا ہوا ایک دِیا تھا۔۔میں نے ہاتھ پہچان لیئے، یہ میری بیٹی کے ہاتھ تھے۔۔میں نے اُسے جھڑکا کہ اتنی دیر سے دِیا کیوں لائی ہو۔۔؟؟؟۔۔تم جانتی بھی ہو مجھے اندھیرا اچھا نہیں لگتا۔۔وہ دِیا میرے پاس چھوڑ کے بغیر بات کیئے واپس لوٹ گئی۔۔دوسرے دن پھر قبر میں اندھیرا تھا۔۔میں اپنی بیٹی کی راہ تکتا رہا مگر وہ دِیا نہ لائی۔۔کچھ دنوں بعد پھر ایک دِیا میرے پاس لایا گیا۔۔اس بار میری بیٹی کی بجائے بیٹا تھا۔۔میں نے بیٹے سے قدرے تُرش لہجے میں کہا کہ مجھے روزانہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔تم روزانہ دِیا لایا کرو۔۔۔وہ ایک دِیا میرے پاس چھوڑ کر بغیر بات کیئے لوٹ گیا۔۔اب تو مدتیں گزرچکی ہیں۔۔میری بیٹی اور بیٹا نجانے کہاں ہیں۔۔؟؟۔۔وہ دِیا لے کر نہیں لوٹے۔۔میرے اڑوس پڑوس جب کبھی دیا جلایا جاتا ہے تو روشنی کی ہلکی سی رمق میری طرف بھی آ جاتی ہے، اور میں اپنی قبر میں چلاتا رہتا ہوں۔۔مجھے روشنی چاہئیے۔۔۔مجھے روشنی چاہئیے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں