428

زلزلہ اور ہمارا کردار تحریر ساجد خان

پاکستان میں زلزلہ آیا تو پوری قوم بھکاری بن کر میدان عمل میں کود گئی۔۔۔جسکا کوئی نقصان نہیں ہوا وہ بھی کمبل، بستر، آٹا، چینی، ڈالڈا، دال لینے لائن میں لگ گیا۔۔۔یہاں سے ہماری ذہنی حالت عیاں ہو جاتی ہے۔۔۔پھر چیک تقسیم ہوئے تو مال مفت دل بے رحم کے مصداق وہ طوفان بدتمیزی بپا ہوا کہ اللہ کی پناہ۔۔۔مجھے یہ پوچھتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہو رہا کہ کیا ہم دنیا میں میچور قوم کے طور پہ ابھریں گے۔۔۔؟؟؟۔۔۔خود کو تھپکی دینے کے لئے محفلوں میں لفاظی تو ہم پہ ختم ہے۔۔میدان تقریر کہ ہم شاہسوار جبکہ عام معاملات میں ہم گھٹیا پن اور کمینگی کا شکار نظر آتے ہیں۔۔۔شادی بیاہ حتی کہ ماتم ہی لے لیں کھانے کی جو حالت ہم کرتے ہیں لگتا ہے کہ ساری قوم بھوک کی ماری ہے۔۔۔سو افراد کا کھانا پچاس افراد میں کم پڑ جاتا ہے۔۔۔۔انسانیت، احترام اور احسان جیسی باتیں ہم بھول جاتے ہیں۔۔۔ظلم کا رویہ ہمیشہ بالا رہتا ہے۔۔۔غمی کے موقع پہ بھی ہم دلی کیفیات، احساسات، محسوسات سے یکسر نابلد ہیں بے روح دعا پہ ہی اکتفا کرتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔زمین جائیداد کے معاملے میں ڈنڈی مارنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔۔۔کتنے ہی قیمتی افراد درخت، دروازے، راستے اور حدود کی وجہ سے قتل ہو جاتے ہیں۔۔کیوں۔۔؟؟؟
ہم سچ کہنا اور سننا پسند نہیں کرتے۔۔۔طاقت میں بدمست ہو کے فیصلے کرتے ہیں تو انسان کو انسان نہیں سمجھتے۔۔۔ہر طاقتور دوسرے کو چبا لینا چاہتا ہے۔۔۔اسکا حق دبا لینا چاہتا ہے۔۔۔نیکی کرنے پہ ہماری حالت یہ ہیکہ جب تک پورے شہر کو بتا نہ لیں ہمیں چین نہیں آتا۔۔۔ہمارے اس رویے سے نیکی کا عمل بھی شرمسار ہو جاتا ہے۔۔۔قومیں ایسی نہیں ہوتیں۔۔۔قوم افراد کو ہی نہیں فرد کو بھی اپنا قیمتی اثاثہ سمجھتی ہے۔۔۔مگر ہمارے ہاں یہ رویہ کبھی نظر نہیں آیا۔۔۔ہم من حیث القوم چین، روس، امریکہ، فرانس، جرمنی، کوریا، آسٹریلیا، سعودیہ کی مثالیں دیتے ہیں۔۔۔نہ ہمارے حکمران انکے جیسے اور نہ ہماری عوام انکی عوام کی طرح ہے۔۔۔ہمارا پڑوسی ملک چین کے ایک شہر تانگ شان میں “اٹھائیس جولائی انیس سو چھہتر” کو خوفناک زلزلہ آیا جسمیں “چھ لاکھ” افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ سات لاکھ اسی ہزار زخمی ہوئے تھے۔۔۔اس وقت تراسی سالہ بوڑھا بیمار “ماﺅزے تنگ” زندہ تھا۔۔۔وہ چلنے پھرنے کے قابل نہ تھا۔۔۔باوجود اسکے اس کا اصرار تھا کہ میں نے “تانگ شان” جاونگا۔۔۔اسی دوران امریکہ “سوویت یونین” سمیت کئی ممالک نے امداد کی پیشکش بھی کی۔۔۔مگر قبول نہیں کی گئی۔۔۔اس نے اپنی قوم سے کہا سنو۔۔۔یہ آفت قدرت نے چین پر اتاری ہے لہٰذا اسے برداشت بھی صرف چین ہی کرے گا۔۔۔زلزلے میں تانگ شان کے چار لاکھ خاندان بے گھر ہو گئے تھے اور یہ وہ لوگ تھے جن کیلئے امریکن پریس نے تاریخ میں پہلی بار ”انٹرلی ڈس پلیسڈ پرسنز“ کی اصطلاح بھی استعمال کی تھی۔۔۔ماوزے تنگ نے زلزلے سے اگلے دن ریڈیو پر پورے ملک میں یہ اعلان جاری کیا کہ تانگ شان کے چار لاکھ خاندانوں کو پناہ کی ضرورت ہے۔۔۔چین کا جو خاندان تانگ شان کی کسی ایک “ڈس پلیسڈ فیملی” کو ایک سال تک پناہ دے سکتا ہے وہ اپنا نام اور پتہ لکھوائے فون نمبرز بتائے گئے۔۔۔یقین کریں ماوزے تنگ کے خطاب کے بعد شام تک چین کے پانچ لاکھ خاندانوں نے اپنے پتے لکھوائے اور آخر یہ حکومت کی طرف سے یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہمیں مزید پتوں کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔۔۔چین کی حکومت تانگ شان کا ایک خاندان لیتی‘ اس کے ہاتھ میں ریل” بس” یا کسی ٹیکسی کا ٹکٹ اور اس کے کفیل کا پتہ پکڑاتی اور سپانسر کو متاثرہ خاندان کے بارے میں اطلاع دے دیتی کہ ریسیو کریں۔۔۔چین کی حکومت نے اس حکمت عملی کے تحت صرف چند ہفتوں میں تمام آئی ڈی پیز یعنی “انٹرنلی ڈس پلیسڈ پرسنز” کو رہائش مہیا کر کے مثال قائم کر دی۔۔۔غیرت مند اقوام غیرت مند فیصلے کیا کرتی ہیں وہ بھیک نہیں مانگتیں وہ ہاتھ نہیں پھیلایا کرتیں وہ بال نہیں نوچتیں وہ گریبان چاک نہیں کرتیں۔۔۔بلکہ ہمت اور صبر سے تاریخ رقم کیا کرتی ہیں۔۔۔پھر اللہ پاک بھی انکی مدد کرتا ہے۔۔۔مدد کرتے وقت اللہ پاک انسان دیکھتا ہے مسلمان نہیں۔۔۔کیونکہ وہ خالق کائنات، مالک کل ہے۔۔وہ سب کا پالنے والا، رکھوالا اور رب ہے۔۔۔جزاکم الخیر۔۔۔ساجد خان حویلیاں۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

زلزلہ اور ہمارا کردار تحریر ساجد خان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں