488

ساجد خان کی افسانہ نگاری سید ماجد شاہ ( اسلام آباد )

ساجد خان کی افسانہ نگاری سید ماجد شاہ ( اسلام آباد )

انسان نام ہی کہانی کار ذہن کا ہے۔۔انسان نے جب بھی اس کرہ ارض پر فطرت کو متاثر کر کے اپنا پہلا ٹھکانہ بنایا ہو گا۔۔اس پہلے تصادم کیوجہ وہ تخلیقی صلاحیت ہو گی جو کہانی کی بنیاد ہے۔۔اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ انسان کا یہ سوچنا کہ ”یوں ٹھیک نہیں ہے” اسطرح ہونا چاہیئے“ حقیقت اور افسانے کا بنیادی فرق ہے۔۔انسان تخیل کے سہارے ہمیشہ ”موجود“ سے اکتا کر نئے جہان کے خواب دیکھتا رہا ہے۔۔اس سلسلے میں اقبال کا یہ مصرع فکر انگیز ہے ”یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید“ غور کریں تو تخیل کا سارا عمل اسی کے گرد گھومتا ہے۔۔آپ چاہے کوئی سیدھا سادا تلخ واقعہ کہانی کی صورت میں لکھیں۔۔اسکے پیچھے بھی یہ خواہش ضرور نظر آئے گی کہ ”ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔“ اسی طرح جب آپ رومان کے زیر اثر کوئی یوٹوپیا لکھتے ہیں تو درپردہ خواہش یہی ہوتی ہے کہ موجود سے ہٹ کر ایسا ہونا چاہیئے۔۔سوچئے ”پچھتاوا“ کیا ہے۔۔؟؟۔۔پچھتاوا ماضی کو ایڈٹ (تصیح) کر کے درست کرنے کی شدید ترین خواہش کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔۔ماضی کو ایڈٹ (تصیح) کرنے کی خواہش در حقیقت کسی اَن دیکھے جہان کی تلاش ہے۔۔ہم تک کہانی کا سفر فیبل، اسطورہ، قصص المشاہیر اورتمثیل سے ہوتا ہوا کہانی کی موجودہ اقسام تک پہنچا ہے۔۔مجھے ہزارہ کی سرزمین پر افسانے کی کمی ہمیشہ سے محسوس ہوتی رہی۔۔اسکی بڑی وجہ ہزارے کی داستانوی فضا ہے۔۔جہاں پتھر، چٹانیں، جھیلیں، درخت اور غار وغیرہ داستانیں سناتے نظر آتے ہیں سوائے ادیبوں کے اس صورت حال میں ساجد خان کے افسانے ایک خوش گوار احساس پیدا کرتے ہیں جو ایک پُر امن معاشرے کا خواب بنتا ہے کیونکہ ادب معاشرے کا عکاس نہیں ہوتا یعنی جو دیا گیا ہے وہی معاشرے کو لوٹا دینا ادب نہیں ہے بلکہ کائنات کو نئے زاویے سے دیکھ کر نئے جہان کی خواہش ادب ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ ایک تخلیق کار کی کاوش اپنے عہد میں حسرت ِ ناکام سمجھی جاتی ہے۔۔بعد کے دور میں وہی حقیقت ہوتی ہے لیکن بات یہاں رکتی نہیں ہے۔۔آئندہ وہی حقیقت، ایک فرسودہ روایت بنتی ہے اور پھر نئے جہان کی تلاش میں ایک نئی حسرت ناکام جنم لیتی ہے۔۔یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے جس دن یہ سلسلہ رک گیا وہ دن کہانی کی موت کا دن ہو گا۔۔اس دِن یقیناً ستارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ روئی کی صورت دھنکے جائیں گے۔۔اردو افسانہ اپنی زندگی کی دوسری صدی میں داخل ہو رہا ہے۔۔نت نئے تجربات سے گزر کر نئی دنیاؤں کی تلاش میں ہے۔۔یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔۔اس سلسلے کو ساجد خان اپنے مخصوص انداز سے تقویت دیتے ہوئے نظر آتا ہے۔۔ساجد خان کے افسانے بھاری بھرکم فکر کے باوجود کہانی کی چاشنی سے عاری نہیں ہوتے۔۔ساجد خان اپنے ارد گرد کہانی تلاش کرتا ہے اور لکھتا ہے۔۔معاشرے سے کٹ کر کہانی نہیں گھڑتا۔۔وہ اپنے موضوع اور فکر کے مقابلے میں ہمیشہ کہانی کو اولیت دیتا ہے۔۔ادیب کیلئے احتیاط زہر قاتل ہے۔۔محتاط اور سہمی ہوئی تحریر ادب پارے کو مضمحل کر دیتی ہے۔۔مثلاً جنس کے ذکر سے ادیب گھبرانے لگتے ہیں اگر ہمت کر کے کچھ لکھیں بھی لیں تو ان کی تحریر میں انکی سانسوں کی سنسناہٹ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بین السطور ای سی جی کی طرح زِگ زیگ لکیریں نمودار ہو کر اسے دھندھلا دیتی ہیں۔۔ساجد خان کے افسانوں میں جہاں جنس کا تذکرہ آیا ہے۔۔وہ اس مقام سے ایک کامیاب افسانہ نگار کی طرح گزرا ہے۔۔ساجد خان کے افسانوں میں ایک خوبی بہت نمایاں ہے کہ وہ واقعات نہیں لکھتا وہ کبھی سادہ بیانیے میں سیدھا، سادہ یا سچا واقعہ لکھ کر بغلیں نہیں بجاتا کہ وہ افسانہ نگار ہیں اسکے اسلوب میں خاص افسانوی رنگ ہے جسکی وجہ سے وہ صحافتی انداز تحریر سے بچ کر افسانہ لکھتا ہے ان مثالوں سے میری بات قدرے واضح ہو جائے گی”۔۔۔کافی دیر قلم ہاتھ میں گھماتا رہا کچھ سجھائی نہ دیا۔۔۔سفید کاغذ اس کی تحریر کے منتظر مگر قلم کی نوک کچھ بھی کہنے سے اجتناب برت رہی تھی۔“ (افسانہ غلاظت) اسی طرح افسانہ ”زمین سکڑ رہی ہے“ میں بیوی کے نئے گھر کی خواہش کا اظہار اس خوبصورت انداز میں کرتا ہے۔۔” آئے روز ان کا صرف ایک بات پہ جھگڑا ہوتا وہ کہتی زمین کم پڑتی جا رہی ہے اور تم اس بارے میں کچھ نہیں سوچتے۔۔“ ساجد خان فکشن میں جبراً لوکیل ڈالنے کے عادی معلوم نہیں ہوتا۔۔وہ کمال مہارت سے اپنی قوت مشاہدہ کے زیر ِ اثر افسانے میں خاص علاقائی رنگ بھرتا ہے کبھی یہ صورت مکالموں میں ابھرتی ہے تو کبھی کردار کی وضع قطع سے اور کبھی منظر تو کبھی جزئیات نگاری سے۔۔ساجد خان جدید افسانے سے بخوبی واقف ہے وہ جانتا ہیکہ اکہری کہانی اکثر دوسری قرات کے قابل نہیں رہتی۔۔تہہ داری ہی افسانے کو افسانہ بناتی ہے۔۔افسانہ ”مکافات عمل“ میں ایک ہی وقت میں تانیثی رویہ، انسانی ہمدردی اور 2005ء کے زلزلہ کی یاد کو اس فنکارانہ مہارت سے برتا ہے کہ قاری ایک افسانے میں رہنے کے باوجود کئی رنگوں میں رنگ جاتا ہے۔۔ساجد خان کے کرداروں کی خوبی یہ ہے کہ اسکے کردار سوچتے ہیں، مکالمہ کرتے ہیں، سوالات اٹھا کر نئے سوالات کی راہ ہموار کرتے ہیں لیکن نصیحت اور ناصحانہ تقریروں سے گریز کرتے ہیں۔۔موضوع کوئی بھی ہو کہانی غالب رہتی ہے یہی انداز ساجد خان کو استاد یا ناصح کی بجائے افسانہ نگار بناتا ہے۔۔ایک سچا فنکار، اپنے تخلیقی عمل سے خود بھی حیران ہوتا ہے اسے سوچتا ہے یہی چیز جب اس کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے تو وہ خود سے مکالمہ کرتا ہے۔۔یہ مکالمہ، کبھی کہانی اور کہانی کار کے درمیانی رشتے کے باریک تعلق کو واضح کرتا ہے، کبھی کہانی کار اور کردار کے رشتے بلکہ لاتعلقی کو ظاہر کرتا ہے۔۔جب کردار، افسانہ نگار کے سامنے بغاوت کر کے، ضد کر کے من مانی کرنے لگتا ہے۔ افسانہ۔۔”نئی کہانی“ کچھ ایسے ہی موضوع پر ایک خوبصورت افسانہ ہے۔۔ساجد خاں معاشرتی جبر کو سطحی انداز سے نہیں دیکھتا وہ جبر کی کائناتی وسعت سے آگاہ ہے۔۔اس کا افسانہ ”دائروں میں بٹی زندگی“ میں جہاں انسان کی معاشی مشکلات اس کے خوابوں کی تعبیر میں حائل نظر آتی ہیں۔۔ شدید برے حالات کے باوجود اس کے خواب مرتے نہیں ہیں۔۔یہی زندگی کی خوبی ہے۔۔جو انسان کو جینے سے منسلک رکھتی ہے۔۔ساجد خان کے افسانوں ”دائروں میں بٹی زندگی“ اور ”دائرے کا اسیر“ میں کہانی اسی نقطے کے گرد گھومتی ہے۔۔جو دائرہ در دائرہ ہمیں جکڑ ے ہوئے ہے۔۔جس میں کبھی ہم۔۔تماشا دیکھتے ہیں۔۔کبھی تماشا بناتے ہیں اور کبھی تماشا بنتے ہیں۔۔ادیب کو معاشرے کا نباض اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ صرف اپنے عہد کے مسائل سے واقف ہو بلکہ اسلیئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کا مزاج آشنا ہوتا ہے۔۔یعنی اسکے موضوعات میں صرف جدت نہیں ہوتی بلکہ وہ کمال مہارت سے اپنے اردگرد کہانی کے دوسرے میڈیم دیکھتا ہے اور افسانے کی ٹریٹ منٹ اس کے مطابق کرتا ہے۔۔اس دور میں مائکرو فکشن، فلیش فکشن، پوپ کہانیاں، افسانچہ اور مختصر ترین افسانہ کے نام پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور ان مختصر تحریروں کو پذیرائی بھی مل رہی ہے۔۔اسی طرح شارٹ فلم اور ٹک ٹاک کا چلن عام ہے۔۔انسان ریمورٹ کنٹرول سے بھی اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔۔ سوشل میڈیا کی بے پناہ رنگا رنگی میں، انسان کی تمام تر مہارت اور فنکارانہ معجزے صرف انگوٹھے کی ایک لطیف سی جنبش پر موقوف ہیں۔۔اس دور میں افسانے کی روایتی تمہید ِ طولانی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔۔اب افسانہ جامعیت کا تقاضا کرتا ہے۔۔ساجد خان کے پاس جہاں افسانے کی جامعیت کی خوبصورت مثالیں موجود ہیں وہاں دلچسپ آغاز بھی قاری کو فوراً گرفت میں لے لیتا ہے۔۔اس سلسلے میں ایک مثال دیکھیے۔۔افسانہ ”زمین سکڑ رہی ہے“ میں ابتدائی جملے کچھ یوں ہیں۔۔”میں پہاڑی پہ بیٹھا ہوں۔۔نہیں کسی جنگل میں گھوم رہا ہوں۔۔نہیں کسی دریا میں ڈبکیاں لے رہا ہوں۔۔“ ان تین جملوں میں قاری، کردار کی کشمکش میں یوں محو ہو جاتا ہے کہ افسانہ ختم کیے بنا بات بنتی نہیں ہے۔۔ایسے خوبصور ابتدائیوں کے ساتھ ساتھ ساجد خان کے پاس سحر انگیز انجام بھی موجود ہیں جن سے قاری لطف اُٹھا تا ہے۔۔ساجد خان کے ہاں افسانے کا عنوان رسماً نہیں آتا بعض جگہ تو اس سے خوب فائدہ اُٹھایا گیا ہے۔۔مثلا “مردہ خانہ“ میں بڑی عمر کی استانی ایک نوجوان شاگرد سے شادی کرتی ہے تو لوگ اس کی غیبت کرتے ہیں۔۔غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ مردہ خانہ عنوان غیبت کی وجہ سے رکھا گیا کہ ہم غیبت کر کے مردہ تعلق دار کا گوشت نوچتے ہیں۔۔اسی افسانے کی نسبت سے ایک اور بات قابل ِ غور ہے کہ جہاں جہاں ساجد خان کے ہاں ناصحانہ انداز بلند آہنگ میں سامنے آتا ہے۔۔وہ ایک دم کمال مہارت اور خوبصورتی سے اسے بدل کر کردار کی خود کلامی بنا دیتا ہے کہ کہانی متاثر نہیں ہوتی۔۔مثال کے طور پر اسی افسانے ”مردہ خانہ“ کے آخری جملے دیکھیں۔۔”ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے سے قبل اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے۔۔کسی سے اختلاف ہو جانے کے بعد زمین آسمان کے قلابے ملا کر الزامات کی بوچھاڑ کیوں کرنے لگ جاتے ہیں۔۔اس نے قلم سامنے میز پر رکھا اور سارے صفحات ہوا میں اچھال دیئے“۔۔اسی طرح دہشت گردی کے موضوع پر لکھا گیا افسانہ ”وی“ ساجد خان کے زیرک افسانہ نگار ہونے پر گواہی دیتا ہے۔۔”وی“ سے مراد دو انگلیوں کے اشارے سے کامیابی کا نشان بنانا ہے۔۔جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ جنسی موضوعات پر بات کرتے ہوئے اکثر افسانہ نگاروں کی سانسیں پھول جاتی ہیں بالکل اسی طرح دہشت گردی پر لکھتے ہوئے اکثر افسانہ نگار خود دہشت کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔ایسے افسانوں میں غصہ، بے بسی اور دہشت بعض اوقات گالم گلوچ تک پہنچ جاتی ہے۔۔ایک اچھا افسانہ نگار نیشنل جیوگرافک کے کیمرہ مین کی طرح ہوتا ہے۔۔وہ کسی معصوم کی جان نہیں بچاتا، زخمیوں کا علاج نہیں کرواتا اسے یہ سب غیر جانبدار ہو کر صرف ”دکھانا“ ہوتا ہے۔۔بظاہر وہ یہ سب کچھ کرتے ہوئے سفاک دکھتا ہے لیکن اس کا دکھایا نسلوں کیلئے تحقیق اور تعلیم کا باعث ہوتا ہے۔۔واقعہ کچھ بھی ہو افسانہ نگار نے کہانی سے باہر رہنا ہوتا ہے۔۔اس نے اپنی لذت، اپنے خوف اور اپنے غصے سے بے نیاز ہونا ہوتا ہے۔۔اس نئے زاویے کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جو عام سطح کے آدمی کی نظروں سے اوجھل ہے۔۔اس سلسلے میں میں نے بہت کم افسانے اور ادب پارے بنتے دیکھے ہیں، جن میں دہشت گرد جو صرف دہشت گردی میں استعمال ہوا ہے اس کی معصومانہ حماقت کو موضوع بنایا گیا ہو۔۔”وی“۔۔میں جب ٹارگٹ کلر کو سزائے موت ہو جاتی ہے تو ڈیتھ سیل میں آخری رات اسے پہرے دار وہ اخبار دکھاتے ہیں جس میں اس کی ہونے والی پھانسی کی خبر چھپی ہوتی ہے۔۔اسکی حیرت کی انتہا نہیں رہتی جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی پارٹی کا وہ عہدے دار جو اس سے دوسری پارٹی کے لوگ قتل کرواتا رہا تھا۔۔وکٹری کا نشان بنائے مقتولین کی پارٹی کے عہدے دار کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا ہے۔۔اس افسانے کو آخری لائن ایک جاندار المیہ بناتی ہے جب اس لڑکے کے غم میں مضطرب لڑکی کا ذکر پر کہانی کا اختتام ہوتا ہے۔۔دیکھیے۔۔”اس کے نظریات سمندر سے ساحل کی طرف پلٹتی ان لہروں کی مانند الٹ پلٹ ہو گئے جو ساحل پر بچوں کے بنائے گھروندے مسمار کر دیتی ہے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں اور اس کے جذبات کے اس انتشار نے یہاں سے دور ایک گاؤں کے چھوٹے سے کچے مکان میں بھی کسی کو مضطرب کر رکھا تھا“۔۔ساجد خان کے افسانے سماج کی عمومی قدروں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔۔وہ پیدا واری رشتوں سے جنم لینے والی کہانیوں کو جس شدت سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اسی کیفیت کو افسانوی بنت میں شامل کرنے کا فن بھی بخوبی جانتا ہے۔۔لسانی شعور اور اپنے فن سے خاص محبت ساجد خان کے افسانوں کو اہم بناتی ہے۔۔ہم عصر حقیقت کو کسی تخلیقی ترتیب میں لانا اورپھر افسانوی قالب مہیا کرنا کوئی آسان بات نہیں اور ساجد خان ان تمام مراحل سے آسانی سے گزرا ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں