461

افسانوی مجموعہ دائرے کا اسیر ایک جائزہ تحریر اجملؔ نذیر نواں شہر۔

فلسفیانہ اندازِ گفتگو، الفاظ کا برجستہ استعمال، فہم و فراست میں ڈوب کر نہاں سے عیاں کی سمت عازمِ سفر ہونا، افسانے کے اندر ماحول کی بھرپور وضاحت اور اس ماحول کے عین مطابق اندازِ گفتگو کا برتاؤ، افسانے کے کرداروں میں حقیقی جان ڈال کر ایسے مکالموں کی ادائیگی جس سے نہ صرف ماحول کی حقیقی عکاسی ممکن ہو بلکہ کرداروں کی بالغ نظری کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہو، یہ تمام تاثرات ساجد خان کی ابتدائی تحریر،”بے بسی، بے چارگی، درماندگی“ کو پڑھ کر بے ساختگی سے اخذ کیے گئے ہیں۔۔اس تحریر کا ایک کردار جب وسیع المطالعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے گویا ہوتا ہے”۔۔نہیں نہیں، یہ روح نہیں کئی اجسام ہیں، تم نے اصل کو پانا ہے تو پہلے نکتے کو ڈھونڈو۔۔نکتہ وسیع دائرے میں ایک نقطے کے برابر ہے۔۔اسی نکتے میں طاقت کے سارے سرچشمے ہیں۔۔وہاں ارتعاش ہے، حرکت ہے، آندھیوں کی طرح تیز ہوائیں ہیں، ان ہواؤں میں آوازوں کی بازگشت ہے، آوازوں کو سنو! تب جان جاؤ گے کہ اصل کیا ہے“۔۔اور اسی افسانے کے آخر میں مدلل گفتگو کرتے ہوئے یہی کردار کہتا ہے”۔۔جب اصل ملے گا تب سکون اور ٹھہراؤ پاؤ گے، تمہاری دسترس میں اتنا ہی ہے، جتنا تمہیں ودیعت کیا گیا ہے، اسکے آگے الجھاؤ ہے، بے بسی ہے، بے چارگی ہے، درماندگی ہے، اصل تک رسائی سے سب قاصر ہیں، قاصر ہیں، قاصر ہیں“۔۔دائرے کا اسیر ایک ایسا افسانوی مجموعہ ہے کہ جس کا ہر افسانہ قدم جکڑ لیتا ہے، الفاظ کی بُنت کانوں میں رس گھولتی ہے اور افسانوی ماحول دل کو متلاطم کیے رکھتا ہے۔۔ایک کسک آگے جست بھرنے پر مجبور کرتی ہے، تو ایسے بے ساختہ اور بے شمار جملے جیسا کہ ”سنو! میں حقیقت پسند انسان ہوں، اور اگلے ہی لمحے وہ سوچنے لگا کہ حقیقت تو ننگی ہوتی ہے“ ایسے جملے راستے میں دیوار بن جاتے ہیں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیتے ہیں۔۔ایسے میں قطرہ قطرہ گھلتا امرت ذہنی آسودگی کا باعث بنتا ہے اور تخیل کے دریچے وا ہو جاتے ہیں۔۔ایسے میں کہانیاں اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ جلوہ گر ہو کر ساجد خان کے زورِ قلم کا تعین کرنے اور اعتراف کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔۔ساجد خان کے افسانوی مجموعے کی خوبی مضامین کی رنگینی ہے۔۔ایک سے ایک تحریر اپنے پلاٹ اور رکھ رکھاؤ کے حوالے سے دوسری تحریر سے یکسر مختلف ہے۔۔موضوعات کا تنوع دائرے کا اسیر کو ایک بہترین افسانوی مجموعہ اور ساجد خان کو باشعور، قادر الکلام اور مستند لکھاری کے طور پر پیش کرتا ہے۔۔انکی تحریروں میں جامعیت بھی ہے اور ٹھہراؤ بھی۔۔کہیں بھی احساس نہیں ہوتا کہ لکھاری نے اجلت کا مظاہرہ کیا ہو اور کڑی سے کڑی جوڑ کر تکمیلی مراحل طے کرنے کی کوشش کی ہو۔۔اگر بحثیت مجموعی ساجد خان کے افسانوں کو پرکھا جائے تو زیادہ تر مکالماتی انداز کو اپنایا گیا ہے۔۔اس مکالمے میں خود کلامی کا عنصر زیادہ ہے۔۔اس خود کلامی میں فلسفیانہ انداز گفتگو کو برت کر خود شناسی، خدا شناسی اور جہاں شناسی کے مراحل کو طے کیا گیا ہے۔۔مجھے ذاتی طور پر ساجد خان کے اندر ایک کھوج کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔۔یہ کھوج باطنی بھی ہے اور خارجی بھی۔۔اسی کھوج کی نشاندہی انکے افسانہ ”سراغ“ کا یہ آخری جملہ اس انداز سے کرتا ہے کہ جیسے وہ ساجد خان کے فکر و فن کا اعتراف کر رہا ہو اور تسلیم کر رہا ہو کہ ہاں یہی وہ مرکز و محور ہے جس سے الفاظ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔۔جملہ کچھ یوں ہے کہ ”میرے باطن کی آنکھ کیا کھلی کہ ہر سو اجالا ہی اجالا ہو گیا “۔۔خدا کرے کہ یہ باطن کی آنکھ کھلی رہے اور ”مجھے روشنی چاہئیے “، ”دائرے کا اسیر“ اور مزید کئی افسانوی مجموعے تخلیق ہوتے رہیں اور ہم ان سے استفادہ کرتے رہیں۔۔اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔۔آمین۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں