479

ساجد خان کا اسلوب تحریر پروفیسر عادل سعید قریشی ایبٹ آباد پبلک سکول ایبٹ آباد

ساجد خان کا اسلوب تحریر پروفیسر عادل سعید قریشی ایبٹ آباد پبلک سکول ایبٹ آباد۔۔


ساجد خان اردو افسانے میں ایک تازہ لب و لہجے اور طرز کا نام ہے۔۔ساجد خان ایک صاحب اسلوب افسانہ نگار ہیں جنکے افسانے کئی لحاظ سے ہم عصر افسانہ نگاروں میں انکو ممتاز کرتے ہیں۔۔انکے افسانوں کا موضوعاتی تنوع، معروضی انداز بیان، ان کا بیانیہ سلیقہ، زبان و بیان کے بالغ قرینے، افسانے میں نفسیاتی عوامل کی ماہرانہ برت، خوش سلیقہ کردار نگاری، پختہ مکالمہ نگاری، لفظوں سے مصوری اور انسانی فطرت نگاری بالخصوص قابل لحاظ ہیں۔۔انکے افسانوں میں انسان دوستی، معاشرتی کجیاں، انسانی کمزوریاں، دیہات نگاری، ہوس و ایثار، فریب و سادہ لوحی، حرص واستغنا، سازش و خلوص غرض انسانی زندگی کے سبھی سیدھے اور ٹیڑھے زاویوں کے نظارے قاری کو ایک خوشگوار حیرت اور مانوس مسرت سے ہمکنار کرتے ہیں۔۔انکے افسانوں کو پڑھ کر میرے دل میں جو سوال پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ ساجد خان کے افسانے کیوں اس قدر خوش رنگ اور متاثر کن ہوتے ہیں۔۔؟؟۔۔لہذا انکے اسلوب کو دیکھنا چاہیے کہ کیا سبھی اسی کی دین تو نہیں۔۔اسلوب، ایک خاصی وقیع اور وسیع اصطلاح ہے جسکی حدود بندی کے لیے خود ایک ضخیم مقالے کی ضرورت ہے۔۔بہر طور اسلوب سے مراد کسی بھی شاعر یا ادیب کا طرز نگارش ہے جو اسکو اسی صنف میں دیگر لکھنے والوں سے منفرد کرتا ہے۔۔بقول ڈاکٹر سلیم اختر ”اسلوب۔۔کی سادہ اور مختصر ترین تعریف کسی شاعر یا نثر نگار کا مخصوص انداز نگارش سے کی جا سکتی ہے۔۔اس لیے اسلوب اگر ایک طرف اچھے شاعر یا اچھے انشا پرداز کی شناخت کا باعث بنتا ہے تو دوسری جانب بعض اوقات قلم کار کی شخصیت کا مظہر بھی ثابت ہو سکتا ہے اور اگر یوں کہا جائے کہ اسلوب کسی بھی فنکار کا لکھنے اور بیان کرنے کے وسائل کا استعمال اور اسکے خیال اور طرز بیان کا انداز ہوتا ہے تو غلط نہ ہو گا۔۔اسلوب، درحقیقت فنی تجربے کی دین ہوتا ہے کسی بھی فن سے کامل آگاہی،اس صنف کا مطالعہ، ندرت فکر، تخئیل کی ارفعیت اور اعلیٰ لفظیات ہی کسی بھی فنکار کے اسلوب کو جنم دیتی ہیں بالفاظ دیگر اسلوب صنف اور اساتذہ صنف کے قائم کردہ معیائیر پر پورا اترنے کا نام بھی ہے۔۔اسلوب کسی ایک افسانہ نگار یا کسی بھی لکھاری کا وہ انداز بھی کہلاتا ہے جو اسکے شخصی کوائف، رحجانات، مسلک و عقیدہ کی بنا پر بھی انفرادیت رکھتا ہے۔۔اس کا یہ اختلاف یا نرالا پن اسکے اپنے ذاتی مطالعہ، علم، فہم، معروضی انداز تفکر پر بھی انحصار کرتا ہے کیونکہ اسلوب فن بھی ہے اور منتہائے فن بھی، تو بے جا نہ ہو گا۔۔اسلوب کی دلآویزی ادب کی معراج ہے اس لیے فنکار اپنے اسلوب کے لیے ہر گھڑی اور ہر زاویہ سے مصروف عمل رہتا ہے۔۔ساجد خان کے اسلوب میں جو چیز نمایاں دکھائی دیتی ہے وہ اس کی زبان ہے۔۔اسکے افسانوں کی زبان دو خاص وصف رکھتی ہے اول زبان سلیس ہے اور دوم سادگی اور اثر آفرینی رکھتی ہے۔۔افسانہ غیر علمی زبان کا متقاضی ہوتا ہے۔۔ساجد خان اس حقیقت سے خوب آگاہ ہے اور اس نے اپنے افسانوں میں روزمرہ کے عین مطابق لکھا ہے۔۔اس کا محاورہ گو کہ ہندکو کے اثر سے مامون نہیں لیکن اردو قواعد کا احتیاط سے استعمال کیا ہے۔۔زبان میں الفاظ و تراکیب میں کوئی اجتہادانہ کام نہیں کیا گیا کیوں کہ ہم مقامی بولیوں والے ایسا کوئی کام کر بھی نہیں سکتے کیوں کہ ہم ہندکو میں سوچتے اور بولتے ہیں اور ہندکو ترجماتے وقت روزمرہ یا محاورہ کی بھول چوک فطری امر ہے۔۔مقامیت کا در آنا ایک خوش آئند امر ہے مگر نیت کر کے ایسا کرنا مناسب نہیں ہو گا۔۔ہر دو صورتوں میں اردو زبان کا مزاج ہی وہ کسوٹی ہے جو اس مقامی لہجے، تلفظ، لفظ اور اصطلاح کو قبول یا رد کرنے کا حق رکھتا ہے۔۔ساجد خان کے ہاں زبان کی سلاست صفتِ خاص کے طور سامنے آتی ہے۔۔زبان کی یہ سلاست انکے ہاں تازگی اور شگفتگی کو جنم دیتی ہے۔۔یہی خوبی روانی اور ترسیل معنی کو بھی یقینی بناتی ہے۔۔فکشن میں ایسی خوبی ادب پارے کی چاشنی اور دلکشی کا سبب بھی بنتی ہے۔۔افسانے میں خاص طور پر زبان کی یہ خوبی اس کے تاثر کو مزید چوکھا کرتی ہے اور افسانوی ادب کی اساسی کلید بھی مانی جاتی ہے کیونکہ افسانہ اپنے اختصار کے سبب زبان کی شگفتگی اور شائستگی کا زیادہ تقاضا کرتا ہے۔۔یہ دونوں خوبیاں خاصی محنت اور جاں فشانی چاہتی ہیں۔۔زبان کی ہر خوبی کرافٹنگ کی دین ہے جس میں لکھاری اپنے بیان اور وسائل بیان بالخصوص لفظیات کو تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے اور ہر ہر لفظ کو معنوی اعتبار سے پرکھتا رہتا ہے۔۔اپنے خیال کے یقینی ابلاغ کیلئے مترادفات اور مرادفات سے سہارا لیتا ہے۔۔ ساجد خان کے ہاں اس کی منجھی ہوئی کرافٹنگ اسکے ہر افسانے کی بنت اور بڑھوتری کو تاثیر اور روانی دیتی ہے۔۔ساجد خان کے الفاظ، جملے، تراکیب سازی اور خوبصورت تلازمے کے ساتھ تکرار حرفی و لفظی قاری کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔۔ساجد خان اپنے افسانوں میں فصیح سے فصیح تر اور بلیغ سے بلیغ تر جملے لکھتا جاتا ہے۔۔وہ نپے تلے انداز میں اپنا مدعا بیان کرتا جاتا ہے اور اپنی نثر کو حشوو زائد سے مامون رکھتا ہے۔۔لفظ کو لفظ کے ساتھ یوں بٹھاتا ہے جیسے کوئی ماہر معمار اینٹ پر اینٹ بٹھاتا ہو۔۔ایک ایک جملہ اپنے معمار کی ذہانت، بلاغت، فہیم اور ذی شعور ہونے کی گواہی دیتا ہے، مثال ملاحظہ کریں۔۔”میں پاگل نہیں۔۔۔میں حقیقت پسند ہوں۔۔میں نے اپنے باپ کی نصیحت پر عمل کیا ہے حضور !! والد نے یہی کہا تھا کہ بیٹا علم میں عظمت ہے۔۔کتاب اصل دوست ہے۔۔میں نے کتابیں تھامیں۔۔علم حاصل کیا اور بے موت مار دیا گیا۔۔آج سب مجھ پر نوحہ کناں ہیں کیا اپنے اور کیا بیگانے“(۲) ”اچانک قوس قزح سے کہیں زیادہ دلکش رنگ ایک دوسرے میں ملتے ملاتے عجیب منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔۔دھیرے دھیرے مختلف رنگ سفیدی میں بدلتے جا رہے تھے۔۔تھوڑی ہی دیر میں ہر جانب سفیدی پھیل چکی تھی۔۔میں جس جانب بھی دیکھتا آنکھیں چندھیا دینے والی سفید روشنی تھی۔۔کبھی تو ایسا لگتا کہ ہر جانب آئینے ہیں جو روشنی کو منعکس کر رہے ہیں“(۳) ان اقتباس کی کرافٹ بتلا رہی ہے کہ کسی مشاق افسانہ نگار نے محنت شاقہ سے لفظوں کو چنا اور ایک سلجھے اور منجھے ہوئے انداز میں اپنا مدعا بیان کیا۔۔لفظوں کا در وبست اور انکا معنوی حسن قاری سے داد خواہ ہے۔۔ساجد خان کے زبان کی ایک اور خوبی جو ملتی ہے وہ ان کا لفظیات کا متوازن اور بر محل چناؤ ہے۔۔غزل اور افسانہ اپنی لفظیات کی وجہ سے ہی تاثر پیدا کرتے ہیں کیوں کہ ان دونوں کا حسن انکے ایجاز اور اختصار میں مضمر ہے۔۔افسانے میں چاشنی اور شیرینی لفظ کی ایماندارانہ ڈھونڈ اور بلیغ استعمال کی رہین منت ہے۔۔لفظ کی مناسب ترین چناؤ اور فصیح ترین برت تحریر کو اثر آفرینی کی دولت سے مالا مال کرتی ہے۔۔اثر آفرینی کے متعلق صاحب زادہ حمیداللہ لکھتے ہیں ”اعلیٰ اسلوب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ پڑھنے والے کو ایک خاص فضا میں فطرت، اخلاق اور روحانیت کی حقیقتیں جسقدر زیادہ ہوں گی اتنا اسلوب کا مرتبہ بلند ہو گا۔۔یہی اثر آفرینی ہے۔“(۴) ساجد خان کے افسانے ان دو خوبیوں سے مزین ہیں۔۔اثر آفرینی کا عالم یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک کہانی شروع کر دیجیے پھر کہانی ختم کئے بنا آپ رہ نہ پائیں گے مثلاََ سراغ، وی، خلش کا شکار، نئی کہانی وغیرہ۔۔دیگر اصناف کیطرح افسانے کا موضوع بھی زندگی ہے۔۔زندگی کی رنگا رنگی لکھاری کو کئی رنگ اور روپ سروپ دکھاتی ہے۔۔لکھاری اپنے تجربے کی موضوعیت اور خیال تجریدیت کو اپنی پیشکش میں ڈھالتا ہے تو کہانی، کردار اور وحدت تاثر میں جب گندھ کر صورت اختیار کرتے ہیں تو اس صورت گری میں ہمیں صاحب اسلوب کی سادگی اور جوش بیان، اصلیت اور حقیقت نگاری، شائستگی اور تازگی، جامعیت اور اختصار، متانت اور بذلہ سنجی غرض کئی اور عوامل ملکر اسکے اسلوب کی بھی صورت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔ساجد خان کے افسانوں میں ایک خاص قسم کی سنجیدگی نمایاں طور پر موجود ہے۔۔جملہ بازی، پھکڑپن اور بےجا طوالت ہرگز نہیں دکھائی دیتی۔۔ساجد خان کے لفظ و معنی کی متین برت، دلکش ترکیب سازی اور تکرار حرفی و لفظی کی ایک دو مثالیں ”دائرے کے اسیر“ سے دیکھیے۔۔۱۔۔ماں کی آغوش میں سر نیہوڑائے ماتھے پر ماں کے ہونٹوں کا لمس رہ رہ کر یاد آنے لگا۔۔ص۴۸۔۔۲۔۔چاندنی رات مجھے بہت اچھی لگتی ہے ہر طرف سکون ہی سکون۔۔ص۸۴۔۔۳۔۔ہر ایک کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار ہے۔۔بس مسئلے کی نوعیت الگ الگ ہے۔۔ص۵۹۔۔۴۔۔کئی تو تین تین، چار چار، چہروں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔۔ص۳۰۱۔۔ساجد خان کے افسانوں میں انکا خطیبانہ انداز بھی انکے افسانوں کو عام ڈگر سے الگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔۔خطابت کی وجہ سے انکے افسانے بلند آہنگ ہو ئے ہیں۔۔وہ اپنے افسانوں میں بڑی سہولت سے خطیب کا بھیس بدل کر آجاتے ہیں اور وعظ و نصیحت کے پھر کہانی کو تنہا چھوڑ جاتے ہیں۔۔یوں کہانی کو ہائی جیک کرنا اور اپنے خطاب سے قاری کو مستفیض کرنے کے متعلق دو مکاتب فکر موجود ہیں ایک وہ جو کہانی میں یوں آجانے کو مذموم تصور کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو کہتے ہیں کہ اعلیٰ ادب اعلیٰ معاشرے اور مستحسن اقدار کو فروغ دیتا ہے جیسے میتھیو آرنلڈ اسی ادب کو حقیقی ادب گردانتا ہے جو ادبی حسن کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار کی سدھار کرے۔۔لیو ٹالسٹائی بھی حقیقی فن اسی ادب کو مانتا جو انسانی اقدار و روایات کا امین ہو۔۔بہر طور ساجد خان ”دائرے کے اسیر“میں خطابت خوب جوہر دکھاتے ہیں۔۔مثلاََصفحات نمبر۱۴،۳۴،۱۶،۲۶،۳۷،۲۰۱،۰۱۱،۹۱۱ وغیرہ۔۔شمس الرحمان فاروقی نے لکھا ہے۔۔”افسانہ نگار اور قاری کے درمیان ایک زبردست معاہدہ موجود ہوتا ہے کہ افسانہ نگار جو بھی کہے گا قاری اس پر اعتبار کرے گا تو کیا افسانہ نگار کی یہ ذمہ داری نہیں ٹھہرتی کہ وہ کچھ نہ کہے صرف دکھلا دے۔۔بیان نہ کرے صرف پیش کر دے۔۔“(۵)۔۔دوسرے لفظوں میں فاروقی صاحب کہہ رہے ہیں کہ کہانی کار اپنی کہانی، کرداروں، مکالموں اور بنت سے الگ تھلگ رہے۔۔ایسا بالکل بھی ممکن نہیں مگر ہاں اثر انداز (influence) نہ کرے یہ ممکن بھی ہے اور مستحسن بھی ہے۔۔ساجد خان ”دائرے کے اسیر“ میں تو خاص طور پر ایک مصلح، مبلغ، معاشرتی اصلاح کار، استاد اور لیکچرار بن جاتے ہیں۔۔ساجد خان کے افسانے اپنے خالق کی ندرت فکر اور بیان کے بانکپن کے امین ہیں۔۔وہ عہد حاضر کے مسائل اور پریشانیوں کے عکاس ہیں۔۔افسانے صرف افسانہ نگار کے اظہار ذات کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ اپنے خالق نظریہ حیات اور تصور فن کے وسیلے بھی ہوتے ہیں۔۔اسلوب کی صلابت اور موضوع کی جاذبیت ملکر ساجد خان کے افسانوں اپنے قاری کے لیے خاصہ کی شے بنا دیتی ہے۔۔اس مختصر مضمون میں ساجد خان کے اسلوب کا جتنا تجزیہ کیا گیا اس کا ماحصل یہ ہیکہ ساجد خان کا اسلوب لسانی وسائل کے منجھے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ ادب کی جمالیاتی قدروں اور معاشرتی و ثقافتی اقدار کا حامل ہے۔۔ساجد خان کے افسانے اسی کے معاشرے اور اسی کے شہر اور گاؤں کے کرداروں کی کہانیاں ہیں جو اسلوب میں ڈھل کر نہایت دلچسپ اور دلآویز افسانوں میں ڈھل چکے ہیں۔۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں